یاد کیا کیا لوگ دشت بے کراں میں آئے تھے

احمد ہمدانی

یاد کیا کیا لوگ دشت بے کراں میں آئے تھے

احمد ہمدانی

MORE BY احمد ہمدانی

    یاد کیا کیا لوگ دشت بے کراں میں آئے تھے

    رنگ لیکن کب یہ چشم خوں فشاں میں آئے تھے

    کس تمنا سے تمہیں دیکھا تھا کس چاہت سے ہم

    رقص کرتے حلقۂ وارفتگاں میں آئے تھے

    صورتیں کیا کیا دل آئینہ گر میں بس گئیں

    ہم سے بے صورت بھی تو بزم جہاں میں آئے تھے

    سادگی سے ہم نے سمجھا تھا ہمارا ذکر ہے

    تذکرے کچھ اور ہی ان کے بیاں میں آئے تھے

    ہر نئی مشکل پہ ہم سوچا کئے ہیں دیر تک

    لوگ پہلے بھی تو کچھ شہر بتاں میں آئے تھے

    یہ گل تر کی سی خوشبو کس طرف سے آ گئی

    ہم بگولے تھے بھلا کب گلستاں میں آئے تھے

    کیوں ہمارے سانس بھی ہوتے ہیں لوگوں پر گراں

    ہم بھی تو اک عمر لے کر اس جہاں میں آئے تھے

    مآخذ:

    • Book : Range-e-Gazal (Pg. 114)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY