یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

آغا نثار

یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

آغا نثار

MORE BYآغا نثار

    یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

    ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں

    وہ ایک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود

    وہ رنگ ہم ترے خاکے میں بھرنے آئے ہیں

    ٹھٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر

    ہم اپنی سطح سے نیچے اترنے آئے ہیں

    یہ بوند خون کی لوح کتاب رخ کے لیے

    یہ تل سر لب و رخسار دھرنے آئے ہیں

    لگا رہے ہیں ابھی خیمے غم کی وادی میں

    ہم اس پہاڑ سے دامن کو بھرنے آئے ہیں

    ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی

    ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں

    نثارؔ بند قبا کھولنا محال نہ تھا

    سو ہم جمال قبا بند کرنے آئے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 282)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY