یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

اشفاق حسین

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

    چلا تو سات سمندر کا سامنا تھا مجھے

    میں اپنی پیاس میں کھویا رہا خبر نہ ہوئی

    قدم قدم پہ وہ دریا پکارتا تھا مجھے

    زمانے بعد ان آنکھوں میں اک سوال سا تھا

    کہ ایک بار پلٹ کر تو دیکھنا تھا مجھے

    یہ پاؤں رک گئے کیوں بے نشان منزل پر

    یہاں سے اک نیا رستہ نکالنا تھا مجھے

    یہ زندگی جو ترے نام سے عبارت تھی

    اسے کچھ اور بنانا سنوارنا تھا مجھے

    رفیق گردش سیارگاں سے پوچھوں گا

    وہ کون تھا جو خلاؤں میں ڈھونڈتا تھا مجھے

    تمام ترک مراسم کے باوجود اشفاقؔ

    وہ زیر لب ہی سہی گنگنا رہا تھا مجھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اشفاق حسین

    اشفاق حسین

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے