یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے

کمار پاشی

یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے

کمار پاشی

MORE BYکمار پاشی

    یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے

    پرندے لوٹ کے آنے لگے اڑانوں سے

    کوئی تو ڈھونڈ کے مجھ کو کہیں سے لے آئے

    کہ خود کو دیکھا نہیں ہے بہت زمانوں سے

    پلک جھپکتے میں میرے اڑان بھرتے ہی

    ہزاروں تیر نکل آئیں گے کمانوں سے

    ہوئی ہیں دیر و حرم میں یہ سازشیں کیسی

    دھواں سا اٹھنے لگا شہر کے مکانوں سے

    شکار کرنا تھا جن کو شکار کر کے گئے

    شکاریو اتر آؤ تم اب مچانوں سے

    روایتوں کو کہاں تک اٹھائے گھومو گے

    یہ بوجھ اتار دو پاشیؔ تم اپنے شانوں سے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY