یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

عابد عمر

یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

عابد عمر

MORE BYعابد عمر

    یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی

    یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی

    چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں

    وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی

    شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر

    مری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی

    ابھی نہ انگلی اٹھا مجھ پہ تھوڑی مہلت دے

    تمیز سیکھ رہا ہوں بڑوں میں بیٹھنے کی

    مجھے بدل کے کوئی اور ہی بنا دیا ہے

    کہ انتہا ہے یہ صورت گروں میں بیٹھنے کی

    دکھا رہے ہیں تواتر سے خامیاں میری

    بھگت رہا ہوں سزا آئنوں میں بیٹھنے کی

    نہیں مجال کسی کی کہ منتشر کر دے

    بنا چکے ہیں جو عادت صفوں میں بیٹھنے کی

    خزانے لٹتے رہیں گے یہ خالی ہونے تک

    اجاڑ دے گی یہ عادت گھروں میں بیٹھنے کی

    خدا عطا کرے عہدہ بڑا غریب کو اور

    بدل سکے نہ وہ خو نوکروں میں بیٹھنے کی

    خوشامدی نہیں رکھتا ہے اپنے کام سے کام

    تو کیا پڑی ہے تجھے افسروں میں بیٹھنے کی

    یہ دل اسکین کرانا بہت ضروری ہے

    کہ اطلاع ہے ترے دھڑکنوں میں بیٹھنے کی

    حیات سوئے عدم لے کے جا رہی ہیں عمرؔ

    جو عادتیں ہیں گئے موسموں میں بیٹھنے کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے