یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

انعام اللہ خاں یقین

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

انعام اللہ خاں یقین

MORE BYانعام اللہ خاں یقین

    یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

    اگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے

    نہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوں

    یہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے

    گنہ گاروں کو ہے امید اس اشک ندامت سے

    کہ دامن شاید اس آب رواں سے پاک ہو جاوے

    عجب کیا ہے تری خشکی کی شامت سے جو تو زاہد

    نہال تاک بٹھلاوے تو وہ مسواک ہو جاوے

    دعا مستوں کی کہتے ہیں یقیںؔ تاثیر رکھتی ہے

    الٰہی سبزہ جتنا ہے جہاں میں تاک ہو جاوے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY