یوں دل و جان کی توقیر میں مصروف تھا میں

خالد ملک ساحل

یوں دل و جان کی توقیر میں مصروف تھا میں

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    یوں دل و جان کی توقیر میں مصروف تھا میں

    جیسے اجداد کی جاگیر میں مصروف تھا میں

    تیشۂ وقت نے بنیاد ہلا دی ورنہ

    ہر گھڑی ذات کی تعمیر میں مصروف تھا میں

    خواب دیکھا تھا محبت کا محبت کی قسم

    پھر اسی خواب کی تعبیر میں مصروف تھا میں

    لفظ رنگوں میں نہائے ہوئے گھر میں آئے

    تیری آواز کی تصویر میں مصروف تھا میں

    ایک اک پل مری پلکوں میں سمٹ آیا ہے

    عہد گم گشتہ کی تحریر میں مصروف تھا میں

    اب ترے واسطے آباد کروں گا دنیا

    ایک عرصہ تری تقدیر میں مصروف تھا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY