زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں (ردیف .. ے)

چکبست برج نرائن

زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں (ردیف .. ے)

چکبست برج نرائن

MORE BYچکبست برج نرائن

    INTERESTING FACT

    1917

    زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں

    مرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتے

    یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں

    شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

    یہ بیکسی بھی عجب بیکسی ہے دنیا میں

    کوئی ستائے ہمیں ہم ستا نہیں سکتے

    کشش وفا کی انہیں کھینچ لائی آخر کار

    یہ تھا رقیب کو دعویٰ وہ آ نہیں سکتے

    جو تو کہے تو شکایت کا ذکر کم کر دیں

    مگر یقیں ترے وعدوں پہ لا نہیں سکتے

    چراغ قوم کا روشن ہے عرش پر دل کے

    اسے ہوا کے فرشتے بجھا نہیں سکتے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY