زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

جاوید شاہین

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

جاوید شاہین

MORE BYجاوید شاہین

    زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

    بات کیا تھی میں خفا جس پر زمانے سے ہوا

    ایک پل میں اک جگہ سے اتنا روشن آسماں

    کوئی تارہ بنتے بنتے ٹوٹ جانے سے ہوا

    سوچتا رہتا ہوں میں اکثر کہ آغاز جہاں

    دن بنانے سے کہ پہلے شب بنانے سے ہوا

    میں غلط یا تم غلط تھے چھوڑو اب اس بات کو

    ہونا تھا جو کچھ وہ جیسے اک بہانے سے ہوا

    کچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیا

    اور کچھ بے درد میں اس کو بھلانے سے ہوا

    بات ساری اصل میں یہ تھی میں اس سے بد گماں

    اک تعلق میں کہیں پہ شک کے آنے سے ہوا

    بچ ہی نکلا ہوں میں جاڑے کی بڑی یلغار سے

    گرم اب کے گھر بدن کا خس جلانے سے ہوا

    کیا کہوں میری گرفتاری کا کوئی اہتمام

    کیسے زیر دام رکھے ایک دانے سے ہوا

    عمر بھر کا یہ جو ہے شاہیںؔ خسارہ یہ مجھے

    ایک سودے میں کوئی نیکی کمانے سے ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY