زر سرشک فضا میں اچھالتا ہوا میں

شاہد ذکی

زر سرشک فضا میں اچھالتا ہوا میں

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    زر سرشک فضا میں اچھالتا ہوا میں

    بکھر چلا ہوں خوشی کو سنبھالتا ہوا میں

    ابھی تو پہلے پروں کا بھی قرض ہے مجھ پر

    جھجک رہا ہوں نئے پر نکالتا ہوا میں

    کسی جزیرۂ پر امن کی تلاش میں ہوں

    خود اپنی راکھ سمندر میں ڈالتا ہوا میں

    پھلوں کے ساتھ کہیں گھونسلے نہ گر جائیں

    خیال رکھتا ہوں پتھر اچھالتا ہوا میں

    یہ کس بلندی پہ لا کر کھڑا کیا ہے مجھے

    کہ تھک گیا ہوں توازن سنبھالتا ہوا میں

    وہ آگ پھیلی تو سب کچھ سیاہ راکھ ہوا

    کہ سو گیا تھا بدن کو اجالتا ہوا میں

    بچھڑ گیا ہوں خود اپنے مقام سے شاہدؔ

    بھٹکنے والوں کو رستے پہ ڈالتا ہوا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY