آشفتہ بیانی میری

رشید احمد صدیقی

ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
2012 | مزید
  • معاون

    مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، دہلی

  • موضوعات

    طنز ومزاح, نصابی کتاب, خود نوشت

  • صفحات

    152

کتاب: تعارف

تعارف

"آشفتہ بیانی میری"رشید احمد صدیقی كی مشہور خود نوشت ہے۔جس میں انھوں نے اپنی زندگی كے مختلف شعبوں بالخصوص علی گڑھ مسلم یونیورسٹی كی ترجمانی كی ہے۔جس میں رشید احمد صدیقی نے صرف اپنی آپ بیتی ہی بیان نہیں كی بلكہ علی گڑھ كی تہذیبی روایت كی عكاسی بھی بڑی خوبصورتی سے كی ہے۔جس نے اس کتاب کو بے انتہاشہرت بخشی ۔ اس كے علاوہ اس كا انوكھا انداز بیاں ،زبان كی شگفتگی وشائستگی،دلچسپ واقعات،شعر وادب سے متعلق مختلف نظریات،مختلف اشخاص كا تذكرہ،تعلیم وتدریس كی اہمیت،اخلاق و كردار كے مثبت پہلووغیرہ ا س كتاب كی دیگر اہم خصوصیات ہیں، جس نے اسے مقبول عام كیا۔رشید احمد صدیقی كو علی گڑھ سے بے انتہا محبت تھی ۔لہذا ان كی تحریروں میں علی گڑھ كا عكس صاف نظر آتا ہے۔ رشید احمد صدیقی كے مطابق علی گڑھ نے اردو شعر ادب كو بہت سی نامناسب پابندیوں سے نجات دلاكر زندگی اور زمانے كے نئے تقاضوں سے روشناس كرایا۔جدید اردو كے بیشتر اسالیب اور صحت مند رجحانات روایات علی گڑھ كے ہی عطا كردہ ہیں۔مصنف كےعلی گڑھ سے متعلق ان ذاتی خیالات میں كہیں زولیدہ بیانی تو كہیں خود كلامی،كہیں دراز نفسی اور كہیں خام خیالی نظر آتی ہے۔اس طرح علی گڑھ رشید احمد صدیقی كا سب كچھ ہے۔ان كی زندگی علی گڑھ كی تہذیب وروایات كی عكاس ہے۔"آشفتہ بیانی میری" رشید احمد صدیقی اور علی گڑھ کا خوبصورت امتزاج ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

رشید احمد صدیقی

رشید احمد صدیقی طنز و مزاح کے عظیم قلمکار رشید احمد صدیقی نے خنداںؔ کے نام سے اپنے مزاحیہ مضامین کے ایک کردار کی تخلیق کی ہے اور اسی کے تخلصؔ کے رعایت سے خوبصورت مزاحیہ اشعار کہے ہیں۔ دراصل رشید احمد صدیقی ہی خنداںؔ صاحب ہیں۔ آپ کی ولادت جون پور کے قصبہ مریاہو میں 24 دسمبر 1892 کو ہوئی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اردو کے استاد رہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب