guman

Jaun Eliya

Al-Hamd Publications, Lahore
2006 | More Info

About The Book

Description

جو ن ایلیا کی شاعری محتاج تعارف نہیں ۔ ا ن کی شاعری نے دنیا کو شاعری کے ایک انوکھے ڈھنگ سے روشناس کرایا اور لفظو ں کو ایک نیا پیراہن عطا کر کے لوگوں کو حیران کر دیا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی فرسودہ روایت اور ترقی پسندیت ، جدیدیت اور وجودیت جیسی تحریکوں سے ہٹ کر اور ذات و کائنات کی باتوں کو چھوڑ کر ، میر و مومن کے بعد جو روایت تشنہ رہ گئی تھی اسے ایک بار پھر سے آبیار کیا اور پھر سے عشق و محبت جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا عنصر بنایا اور غم حجراں ، وصال اور درد و الم سے شرابور نظمیں ، غزلیں و قطعات صفحہ قرطاس پر اتار دئے۔کہیں کہیں اہل زمانہ اور معشوق پر ان کی جھنجھلاہٹ صاف نظر آتی ہے اور جب یہ ناراضگی اور جھنجھلاہٹ ان کی شاعری کا حصہ بنتی ہے تو وہ کلاسیکی عشقیہ شاعری نہ ہوکر زمین پر سانس لیتے ہوئے مرد و عورت کی محبت و نفرت کی شاعری بن جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ تلخ و شیرین حالات میں اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر دو ٹوک بات کرتے ہیں اور ہواوں ،بادلوں، پھول ، خوشبو کو اپنی بات پہونچانے کے لئے نہیں استعمال کرتے ۔ "گمان" جون کا شعری مجموعہ ہے ۔جس میں جون کی خوبصورت غزلیات کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے نظر آتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی بہترین نظمیں اور قطعیات بھی اس مجموعہ کا حصہ ہیں ۔ جون ایلیا کو مطالعہ کرنے والے اور انہیں پسند کرنے والے اس مجموعہ کلام سے اپنی پیاس بچھا سکتے ہیں۔

.....Read more

About The Author

Jaun Eliya

Jaun Eliya

Syed Jaun Asghar (1931-2002), popularly known as Jaun Elia, was born in Amroha where he received his early education under the guidance of his father, Shafiq Hasan Elia. He acquired the degrees of Adeeb Kamil (Urdu), Kamil (Persian), and Fazil (Arabic). He migrated from India in 1957 and settled in Karachi where he worked at the Ismailia Association of Pakistan supervising writing and compilation from 1963 to 1968. Following this, he remained associated with the Urdu Dictionary Board. He also edited Aalami Digest with Zahida Hena.

Jaun Elia was deeply interested in the disciplines of history, philosophy, and religion. This gave a certain touch of otherness to his personality and poetry. His poetry is remarkable for its effortless expression and immediacy of appeal. While he published his first anthology Shaayed (1991) during his lifetime, other collections Yaani (2003), Gumaan (2004), Lekin (2006), Goyaa (2008) and a book in prose entitled Farmood (2008) were published posthumously. He had also collected his letters to Zahida Hena to whom he was married but they had separated later. Elia had also written another book in prose called Rumooz and translated Kitab-ut-Tawwaseen and Jauhar-e-Salqui by Mansoor Hallaj which remain unpublished. The government of Pakistan honoured him with the prestigious award of excellence for his services to literature.


.....Read more

More From Author

See More

Popular And Trending Read

See More

EXPLORE BOOKS BY

Book Categories

Books on Poetry

Magazines

Index of Books

Index of Authors

University Urdu Syllabus