انتخاب کلام انعام اللہ خاں یقین

انعام اللہ خاں یقین

اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ
1991 | مزید

مصنف: تعارف

انعام اللہ خاں یقین

انعام اللہ خاں یقین

انعام اللہ خاں یقینؔ مرزا مظہر جان جاں کے مشہور شاگرد ہیں اور مصحفیؔ راوی ہیں۔ یقینکی تاریخ پیدائش فرحت اللہ بیگ کی تحقیق کے مطابق1140ھ 1727ء ہے ۔ حال آں کہ تعجب معلوم ہوتا ہے کہ ایک بارہ برس کے لڑکے نے ایسی مربوط غزل کہی ہو کہ 1125ء میں حاتمؔ جیسے مشتاق استاد نے اس کی غزل پر غزل لکھی ) اس وقت اس کے ہم عصر سب اسی قسم کی شاعری کررہے تھے اور یقیناًاس میں ان کا پیہ بلند تھا ۔ یہ عمر29سال 1169میں ان کا انتقال پر اسرار طریقے پر ہوا ۔ قاتل اور وجہ قتل صحیح تحقیق نہیں ہوسکی۔ ان کے متعلق یہ مشہور تھا کہ مظہرؔ اپنے اشعار ان کو دے دے کرتے تھے ۔ لیکن خارجی داخلی شواہد سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی (فرحت اللہ بیگ نے دیوان یقینؔ کے مقدمے میں اس موضوع پر مدلل بحث کی ہے ) میرؔ نے خوا ہ مخواہ ان کی برائی لکھی ہے ۔ ان کی ہر غزل پانچ اشعار کی ہوتی ہے ۔ کلام ان کا واقعی بہت پختہ ہے اور خوب ہے گرویزیؔ اور شفیقؔ نے توبے انتہا تعریف کی ہے ۔ قائمؔ نے بھی صدر نشین بزم شعرائے متاخرین لکھا ہے اور عبدالحی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ۔ ’’اگر یقین جیتے رہتے تو میر و مرزاؔ کسی کا چراغ ان کے سامنے نہیں جل سکتا تھا خود یقینؔ کے زمانے میں ان کی کافی قدر تھی ۔ ان کی غزلوں پر تقریبا سب استادوں نے غزلیں کہی ہیں ۔ حاتمؔ نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے اور شفیقؔ نے تو ان کی ہر غزل پر غزل لکھی ہے اور اگر یقینؔ کا یہ دعویٰ کہ طرز یں سخن کی اس کے تم نے اڑائیاں ہیں ۔ تسلیم کرلیا جائے تو ان طرزوں کا موجد یقینؔ ہی کو ماننا پڑے گا ۔ مظہر ؔ کی طرح انہوں نے بھی ایہام کی الجھنوں سے شاعری کو نکالا جس کا ذکر مصحفیؔ نے بھی کیاہے۔ شاعری ہے لفظ و معنی سے تری لیکن یقینؔ کون سمجھے یاں تو ہے ایہام مضمونؔ کی تلاش یقینؔ نے دیگر اساتذۂ عصر کی طرح فارسی محاروں اور ضرب الامثال کو اردو کا جامہ پہنایا ہے ۔ الغرض ان کا کلام استادانہ ہے ۔ زمینیں ہمیشہ شگفتہ نکالتے ہیں ۔روزہ مرہ کے ساتھ زور کلام عجب لطف دیتا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب