सरीर-ए-ख़ामा

आबिदुल्लाह ग़ाज़ी

अंजुमन तरक़्क़ी उर्दू (हिन्द), देहली
2010 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

یہ کتاب عالمی تجربات و مشاہدات اور نئی فکرو نئے تجزیئے پر مشتمل ہے۔ اس کے مضامین قوموں کے عروج و زوال اور فکرو عمل کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں ۔ پوری کتاب میں مخاطب انسان بالخصوص امت مسلمہ کو بنایا گیا ہے اور انہیں جمود و تعطلی کے حصار سے باہر آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ مضامین جس قدر اصلاحی ہیں اسی قدر ادبی بھی ہیں ،ان کو پڑھ کر ارادوں میں اولو العزمی پیدا ہوتی ہے اور طبیعت میں شگفتگی آتی ہے۔ اس کتاب کا ایک خاص پیغام ہے جو اس کے مختلف مضامین سے مترشح ہوتا ہے ، وہ ہے نئے دور کے تقاضوں کو سمجھنا ، جدید علوم سے بہرہ ور ہونا ، ورنہ آنے والی نسلیں ملک و قوم پر بوجھ بن کر رہ جائیں گی ۔ اس کتاب میں قدیم و جدید اور مشرق و مغرب دونوں کے رنگ جھلکتے ہیں ۔اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو خاص طور پر بیدار کرنے اور جدید دور کو دعوت مبارزت دینے کی صدا لگائی گئی ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम