sher-e-shor angez

शम्सुर रहमान फ़ारूक़ी

डायरेक्टर क़ौमी कौंसिल बरा-ए-फ़रोग़-ए-उर्दू ज़बान, नई दिल्ली
2006 | अन्य
  • उप शीर्षक

    Volume-001

  • सहयोगी

    शम्सुर रहमान फ़ारूक़ी

  • श्रेणियाँ

    पाठ्य पुस्तक, शोध एवं समीक्षा, शाइरी

  • पृष्ठ

    647

पुस्तक: परिचय

परिचय

یو ں تو میر تقی میر پر لکھنے والوں کی تعداد کی کمی نہیں ہے۔ میر تقی میر پر لکھا گیا اور خو ب لکھا گیا ۔ مگر شمس الرحمن نے جو لکھا ٹھوک بجا کر لکھا۔ میر پر تحقیقانہ و انتقادانہ مضامین جس شدت سے شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کسی اور نے نہیں لکھا۔ شعر شور انگیز 4 جلدوں پر مشتمل میر کی شاعری کا انتقادی پوسٹ پارٹم ہے۔جس میں جناب موصوف نے بہت ہی زیادہ زور صرف کیا ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد اب بس ہے۔ 'شعر شور انگیز' کئی بار چھپ چکی ہے اوراس کو 1996ء میں سرسوتی سمّان ملا جو برصغیر کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب اس کی پہلی جلد ہے جس میں مصنف نے سب سے پہلے اس راگ کو چھیڑا ہے جو بہت دنوں سے تنازع سے بھرا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ میر خدائے سخ ہے یا غالب؟ ابتدا میں نو ابواب قائم کئے گئے ہیں جو کچھ اس طرح سے ہیں کہ خدائے سخن میر کہ غالب، غالب کی میری، میر کی زبان روز مرہ یا استعارہ ، انسانی تعلقات کی شاعری، چوں خمیر آمد بدست نانبا ، دریائے اعظم، بحر میر، شعر شور انگیز۔اس کے بعد میر کی غزلیات (ردیف الف تک) کا انتخاب پیش کیا گیا ہے اور ہر دیوان سے کچھ نہ کچھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب کی شہرت ادبی حلقوں میں بہت زیادہ ہے۔ اور اب یہ کتاب میر پر سب سے بہتر کتاب سمجھی جاتی ہے۔ قارئین کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ نیز کتاب کے آخر میں اشاریہ بھی درج ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम