مصنف : ملک راج آنند

ناشر : ساہتیہ اکادمی، دہلی

سن اشاعت : 1990

زبان : Urdu

موضوعات : ترجمہ

ذیلی زمرہ جات : ناول

صفحات : 186

معاون : غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی

اچھوت

مصنف: تعارف

 ملک راج آنند انگریزی کے فکش نگار اور دانشور ہیں۔ 12 دسمبر 1905 میں ہشاور ( اب صوبہ خیبر پختوں خواہ، پاکستان) میں پیدا ھوئے۔ امرتسر کے خالصہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1924 میں پنجاب یونیورسٹی میں شریک ھوئے۔ پھر لندن سے فلسفے کی تعلیم کی اور بعد میں کیمرج یونیورسٹی سے ڈاکڑیٹ کی سند لی۔ ای ایم فوسٹر سے ان کی دوستی تھی۔ اور ایلڈی ھکسلے اور ڈی ایس لارنس سے بھی تعلق رہا۔ "قلی"(COOLIE.1936) ان کا بہترین ناول ھے۔ اس ناول پر فلمیں بھی بنی۔ منشی پریم چند کی سامراج بیزاری سے متاثر تھے اسی سبب انھوں نے ہندوستان کے " دلت ادب" مین بھی دلچسپی لی۔ ان کی کہانیوں میں ھندوستان کے مذاھب، نسلی چھوت چھات ثقافت اور برطانوی سامراج شکنی کا بیانیہ ملتا ھے۔ ملک راج آنند کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔ اردو کے ترقی پسند تحریک کے بنیادی دستخط گزاروں میں ان کا نام بھی شامل ھے۔ ان کا تعلق انگلستانی ادبی گروپ " بلومزبیری" ( "BLOOMSBURY") سے رہا ھے. ٹی۔ ایس ایلیٹ نے اپنے ادبی جریدے " CRITERION" میں آنند صاحب کا مصاحبہ شائع کیا۔ ان کی ناول "اچھوت" (UNTOUCHABLE, 1935) کئی انگلستانی جامعات کے نصابات میں شامل رھی۔ اس وقت ان جامعات میں ای ایم فوسٹر کی ناول " پیسیج ٹو انڈیا "(PASSAGE TO INDIA. 1927) بھی وہان کی جامعات پڑھائی جاتی تھی اور طلبا اس کا تقابلی مطالعہ کرتے تھے ۔ناول نگاری کے علاوہ ملک راج آنند نے ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ، ڈی۔ ایچ۔ لارنس اور جینیا وولف کے بارے میں اپنے تاثرات "کنور شیشنزان بلومز بری" میں لکھے ہیں۔ وہ عرصہ دراز تک ممبئ کے مشہور آرٹ میگزین "مارگ" کے ایڈیٹر بھی رہے۔ وہ مہاتما گاندھی کی شخصیت اور لندن کی علمی وادبی فضا سے بڑے متاثر نظر آتے ہیں۔ فوسٹر نے جدیدیت کے حوالے سے اینگلو انڈین سامراج کے طبقات پر یہ ناول لکھا جب کہ ملک آنند راج نے ہندوستانی چھوت چھات اور بیت الخلا کے صفائی کرنے والوں پر اپنا ناول تحریر مُلک راج آنند کو انیس سو پینتیس میں ان کے ناول ’ان ٹچ ایبل‘ سے شہرت ملی۔
یہ ناول ایک ایسی پندرہ سالہ مزدور لڑکی کی کہانی ہے جو تپِ دق سے مر جاتی ہے۔ یہ ناول بھارت میں انگریزی سامراج اور ذات پات کے نظام پر ایک بھرپور تنقید ہے۔
یہ ناول دراصل ملک راج آنند کے ایک ذاتی المیے پر ردِ عمل تھا۔ ہوا یہ تھا کہ ان کی آنٹی کو ہندو برادری سے صرف اس بنا پر باہر نکال باہر کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک مسلمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا تھا۔ آنند کی آنٹی نےاس واقعے سے دل گرفتہ ہوکر خود کشی کر لی تھی۔
اس ناول کا پیش لفظ مُلک راج آنند کے دوست اور مشہور ناول نگار ای ایم فوسٹر نے لکھا تھا۔
ناول کے بارے میں مصنف مارٹن سیمور سمتھ لکھتے ہیں کہ ’یہ ایک جذباتی اور مشکل موضوع پر لکھا جانے والا فصاحت اور بلاغت سے پُر اور فکرانگیز شاہکار ہے۔
ان کی دوسری ادبی کاوشوں میں انیس سو چھتیس کا ناول ’قلی‘، اگلے برس سامنے آنے والی تحریر ’ٹُو لیوز اینڈ اے بڈ‘ انیس سو انتالیس کا ناول ’ دی ویلج‘ اور انیس سو چالیس کا ’ایکراس دی بلیک واٹرز‘ شامل ہیں۔ فوسٹر نے آنند صاحب کی ناول کا دیباچہ بھی لکھا ھے۔ 1939 میں ملک آنند راج فاشزم کے خلاف عالمی ادیبوں کی کانفرس میں لندن گئے۔ وہاں ان کی ملاقات اداکارہ کتھلین وین جیلیرڈر سے ھوئی۔اور انھوں نےکچھ دنوں بعد کتھلیں سے شادی کرلی ۔ جن سے ان کی ایک بیٹی ھے۔ ملک راج آنند نے 1965 سے 1970 تک لیلت الادمی کے شعبہ فنون لطیفہ کے صدر نشین رھے۔ بھر وہ " لکیتا" ٹرسٹ کے ثقافتی مرکز واقع حضور خاص دہلی کے صدر رھے۔آنند صاحب بہت اچھی اردو جانتے تھے۔ اور ان کا اردو ادب کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ 
سید عاصم محمود نے لکھا  ہے۔ "راج آنند 1921ء تا 1924ء امرتسر کے خالصہ کالج میں زیر تعلیم رہے۔ اس دوران انہیں اردو شاعری سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ حتی کہ وہ اردو نظمیں کہنے لگے۔ ان دنوں شاعر مشرق، علامہ اقبالؒؒ کی شاعری کا چرچا چہار دانگ عالم میں پھیل چکا تھا۔ چناں چہ ملک راج آنند لاہور جاکر علامہ اقبالؒ سے ملاقاتیں کرنے لگے تاکہ شاعری میں رہنمائی پا سکیں۔ اس دوران ادبی و فلسفیانہ موضوعات بھی زیر بحث آتے۔علامہ اقبالؒ کی قربت ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک راج آنند فلسفے میں ازحد دلچسپی لینے لگے۔ جب انہوں نے بی اے کرلیا، تو وہ یہ مشورہ کرنے شاعر مشرق کے پاس پہنچے کہ اب آگے کس قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جائے۔ملک راج آنند اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں: ’’میں نے ان سے کہا، میں آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہوں۔‘‘وہ بولے ’’میرے نقش قدم پر چلے، تو تم میونخ (جرمنی) پہنچ جاؤ گے۔ لیکن تم تو جرمن زبان نہیں جانتے۔ پھر شاید تمہارے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ وہاں جا سکو۔ بہرحال تم ایسا کرو کہ لندن چلے جاؤ۔ میں اس سلسلے میں کچھ کرتا ہوں۔‘‘علامہ اقبالؒ نے پھر لندن میں اپنے دوستوں کو خطوط لکھے۔ آخر شاعر مشرق کی کوششوں سے یونیورسٹی کالج، لندن میں ملک راج آنند کا داخلہ ہوگیا۔ زادِ راہ کے طور پر علامہ اقبالؒ نے نوجوان راج کو 500 روپے دیئے جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ یوں ان کی سعی مسلسل سے ایک ہندو نوجوان کے کیریئر کا شاندار آغاز ہو۔علامہ اقبال نے انگلستان کے ادبا ، شعرا اور دانشوروں کو خط لکھ کر آنند صاحب کو متعارف کروایا تھا۔
  ملک راج آنند اقبال سے بہت متاثر تھےاور اس نے ان کی شاعری اور فکر کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اقبال کی بہت سی نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ وہ جب بھی اقبال کا ذکر کرتا نہایت ادب اور عقیدت سے کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر ہندوستان نے ترقی کرنی ہے تو اسے اقبال کی فکر کو اپنانا ہوگا۔ اس نے ہمیشہ اقبال کو ایک وسیع النظر، کشادہ دل، انسان دوست اور جدت پسند شاعر اور مفکر کے روپ میں دیکھا۔ اس کے نزدیک اقبال کا پیغام کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اس نے اپنی کتاب The Golden Breath: Studies in Five Poets of the New India جو 1933 میں لندن سے شائع ہوئی علامہ اقبال کا ذکر ہندوستان کے ایک جدید شاعر کے طور پہ کیا ہے اور ان کی شاعری کے انقلابی پہلووں پہ روشنی ڈالی ہے۔
اسی طرح اقبال صد سال سمپوزیم کے موقع پر ملک راج آنند نے اپنا ایک معرکہ آرا مقالہ The Humanism of Muhammad Iqbal: Multidisciplinary Approach پیش کیا۔ اس میں اس نے علامہ کو شاعر انسانیت قرار دیتے ہوئے انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک راج آنند کا ایک مقالہ Iqbal a Universal Poet کے عنوان سے ہے جو Iqbal Commemorative Volume میں شامل ہے اور جسے علی سردار جعفری اور کے ایس دگل نے مرتب کیا تھا۔ اس میں بھی اس نے اقبال کی شاعری کے آفاقی پہلووں کی نشان دہی کرتے ہوئے انھیں ایک جدت پسند شاعر اور مفکر قرار دیا ہے۔
ان کے علاوہ  The Poetry of Sir Muhammmad Iqbalاور  A Universal Poet: Existentialism to Humanismمیں بھی ملک راج آنند نے علامہ اقبال کی شاعری کے انسانیت دوست اور جدت پسندانہ خیالات کو موضوع بنایا ہے۔" {ڈاکٹر ملک راج آنند: اقبال کا ایک ترقی پسند عاشق —-از۔  اعجازالحق اعجاز}

 وہ عرصہ دراز تک ممبئ کے مشہور آرٹ میگزین "مارگ" کے ایڈیٹر بھی رہے۔ وہ مہاتما گاندھی کی شخصیت اور لندن کی علمی وادبی فضا سے بڑے متاثر نظر آتے ہیں۔ فوسٹر نے جدیدیت کے حوالے سے اینگلو انڈین سامراج کے طبقات پر یہ ناول لکھا جب کہ ملک آنند راج نے ہندوستانی چھوت چھات اور بیت الخلا کے صفائی کرنے والوں پر اپنا ناول تحریر کیا۔  پھر۔’ٹُو لیوز اینڈ اے بڈ‘ انیس سو انتالیس کا ناول ’ دی ویلج‘ اور انیس سو چالیس کا ’ایکراس دی بلیک واٹرز‘ شامل ہیں۔ فوسٹر نے آنند صاحب کی ناول کا دیباچہ بھی لکھا ھے۔ 1939 میں ملک آنند راج فاشزم کے خلاف عالمی ادیبوں کی کانفرس میں لندن گئے۔ وہاں ان کی ملاقات اداکارہ کتھلین وین جیلیرڈر سے ھوئی۔اور انھوں نےکچھ دنوں بعد کتھلیں سے شادی کرلی ۔ جن سے ان کی ایک بیٹی ھے۔ ملک راج آنند نے 1965 سے 1970 تک لیلت الادمی کے شعبہ فنون لطیفہ کے صدر نشین رھے۔ بھر وہ " لکیتا" ٹرسٹ کے ثقافتی مرکز واقع حضور خاص دہلی کے صدر رھے۔آنند صاحب بہت اچھی اردو جانتے تھے۔ اور ان کا اردو ادب کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ علامہ اقبال سے رابطے میں بھی رھتےتھے اور ان کی شعریات اور فکر سے متاثر بھی تھے۔ ملک راج آنند مضمون کا ترجمہ " فن اور جوہر کے عنوان سے اسلم پرویز نے اردو میں منتقل کیا ھے۔ جب کہ مسعود الحق نے آنند صاحب کی کہانی " حجام کی ٹریڑ یونیں" اور مہہ جبں جلیل نے آنند صاحب کی کہانیوں " گم شدہ بچہ"۔۔۔ اور سونے کی گھڑی کو اردو میں ترجمہ کیا ھے۔ ملک راج آنند کو انگلستاں بھجوانے میں علامہ اقبال نے اھم کردار کیا تھا۔ اور علامہ اقبال نے انگلستاں کے ادبا ، شعرا اور دانشوروں کو خط لکھ کر آنند صاحب کو متعارف کروایا تھا۔ نمونیہ میں مبتلا ھوئے اور 28 دسمبر 2004 میں 98 سال کی عمر میں پونا ، بھارت میں انتقال ھوا۔ 

ملک راج آنند کی تصانیف یہ ہیں:

ان ٹچ ایبل
 قلی
 ابکراس دی بلیک ڈاٹرس
 دی سورڈ اینڈ دی سیکل
 دی بگ ہارٹ
 وومن اینڈ دی کاؤ
 پرائیویٹ لائف آف این اینڈین پرنس
 دی سیون ایجز آف مین
 دی سیون سمرس
 کنفیشنس آف اے لوور
 دی بیل
 لِٹل پلیز آف مہاتما گاندھی

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے