aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : سید محمد لطیف

ناشر : تخلیقات، لاہور

سن اشاعت : 1995

زبان : Urdu

موضوعات : تاریخ, ترجمہ

ذیلی زمرہ جات : ہندوستانی تاریخ, تاریخ

صفحات : 416

مترجم : افتخار محبوب

معاون : غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی

آگرہ، اکبر اور اس کا دربار

کتاب: تعارف

آگرہ جس کا پرانا نام اکبر آباد تھا وہ صدیوں تک شاہی رونق سے منور رہا۔ یہ شہر زمانہ قدیم سے ہی خصوصیات کا حامل رہا ہے۔ شہر جمنا ندی کے کنارے بسا ہے جو نہ صرف زمانہ قدیم بلکہ جدید دور میں بھی اپنی الگ شناخت رکھتا تھا۔ اس شہر کو سکندر لودی نے از سر نو بسایا اور پھر وہاں پر شاہوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی اور مغلوں کا وہ دارالسلطنت بھی قرار پایا۔ اگرچہ اکبر کے عہد میں آگرہ سے کچھ فاصلے پر فتح پور سیکری کو دارالخلافہ قرار دیا گیا مگر اس کے بعد پھر سے آگرہ دار السلطنت بنا اور عہد جہانگیری کا شاہد ہوا، پھر شاہجہانی دور میں آگرہ سے دارالسلطنت کو منتقل کر کے دہلی قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد یہ شہر ایک شہر کی حیثیت سے جانا جاتا رہا ہے۔ اس کتاب میں آگرہ اور اس کے اطراف کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس میں اس کی عمارات اور قدیم دھروہر کا بھی بیان شامل ہے۔ جیسے قلعہ سرخ، تاج محل، فتح پور سیکری ،شیخ سلیم چشتی، سکندرہ۔ مگر آگرہ اور فتح پور سیکری میں جو رونق اکبر کے دربار میں تھی وہ بعد میں نظر نہیں آئی۔ اکبر کا عبادت خانہ جس میں مختلف اقوام کے علماء مباحثہ کیا کرتے تھے بڑا ہی دلچسپ ہے۔ اکبر کے دربار میں شیخ ابو الفضل، شیخ فیضی، راجہ بیربل، بیرم خان، راجہ بھگوا ن داس، عبد الرحیم خان خاناں، تان سین، خواجہ نظام الدین احمد اور ملا عبد القادر بدایونی جیسے لوگ شامل تھے جن کی موجودگی اکبری عہد اور اس کی مجالس کی رونق ہوا کرتی تھی۔ اس کتاب میں صرف اکبری عہد کے آگرہ کو بیان کیا گیا ہے اور اجمالا اس کی تاریخ کو بیان کر دیا گیا ہے۔ در اصل یہ کتاب ایک انگلش کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے