aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
زیر تبصرہ کتاب "برہان اقبال" پروفیسر محمد منور کی تصنیف ہے، اس کتاب میں مختلف مقالات ہیں جو فکر اقبال کے سر چشموں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ نیز اقبال کی تفہیم میں بڑی حد تک معاون ہیں۔ مقالات میں تاریخ سے متعلق اہم معلومات ذکر کی گئی ہیں، قرآن کریم کے تصور تاریخ کو واضح کیا گیا ہے، علامہ اقبال کی شاعری میں موجود اس پہلو کی بخوبی عکاسی کی گئی ہے ، علامہ پریشانیوں اور مشکلات میں صراط مستقیم پر قائم رہنے والے کو مرد یقین قرار دیتے ہیں، اس پہلو پر بھی بخوبی گفتگو کی گئی ہے، اور کلام اقبال کے نمونہ پیش کئے گئے ہیں، قرآن کریم کی تعلیمی جہت کا تاثر بھی علامہ اقبال کی شاعری بخوبی موجود ہے، اس اہم موضوع پر بھی وقیع اور مدلل گفتگو کی گئی ہے، علامہ اقبال کی شاعری میں قرآن کو عظیم اور زندہ کتاب قرار دیا گیا ہے، اس کے مضامین کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں، اقبال کا قرآن کریم سے تعلق اور قرآن کریم کی سمجھ واقعات کی روشنی میں بیان کی گئی ہے ، اشعار کے ذریعے بھی اس کی مثالیں پیش کی گئی ہیں، کتاب اہم اور قرآن و حدیث کے اہم دلائل کو پیش کرتی ہے، اور فکر اقبال کی وسعت سے واقف کراتی ہے۔
شناخت: ماہرِ اقبالیات، محقق، مترجم اور شاعر
پروفیسر محمد منور 27 مارچ 1923ء کو بھیرہ، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا ہاشم الدین تھا۔ انہوں نے جامعہ پنجاب سے اردو، عربی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تدریسی زندگی میں گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے اور 1980ء میں صدرِ شعبہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ بعد ازاں جامعہ پنجاب کے شعبۂ اقبالیات کے صدر اور اقبال اکیڈمی پاکستان کے ڈائریکٹر بھی رہے۔
پروفیسر محمد منور کا شمار پاکستان کے ممتاز ماہرینِ اقبالیات، محققین اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اقبال کی فکر، فلسفہ اور شاعری پر گراں قدر تحقیقی کام کیا اور اقبالیات کے میدان میں کئی اہم کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی نمایاں کتب میں ’’میزانِ اقبال‘‘، ’’ایقانِ اقبال‘‘، ’’برہانِ اقبال‘‘، ’’قرطاسِ اقبال‘‘، ’’علامہ اقبال بحضورِ آدم‘‘، Iqbal and Quranic Wisdom، Dimensions of Iqbal اور Iqbal: Poet Philosopher of Islam شامل ہیں۔
اقبالیات کے علاوہ انہوں نے تاریخ، تہذیب، سیاست اور ادب پر بھی متعدد کتابیں لکھیں، جن میں ’’پاکستان حصارِ اسلام‘‘، ’’تحریکِ پاکستان: تاریخ و خدوخال‘‘، ’’دیوارِ برہمن‘‘، ’’مشاہدۂ حق کی گفتگو‘‘ اور ’’اولادِ آدم‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ شاعری میں ان کے مجموعے ’’غبارِ تمنا‘‘ اور ’’نقطۂ اشک‘‘ شائع ہوئے، جبکہ انہوں نے کئی اہم تاریخی متون کے تراجم اور تدوین کا کام بھی انجام دیا۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
وفات: پروفیسر محمد منور کا انتقال 7 فروری 2000ء کو لاہور میں ہوا۔