aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
یہ کتاب ایسی کتابوں میں سے ہے جو بار بار پڑھے جانے کا تقاضہ کرتی ہیں۔زندگی بھر وارث علوی کا سروکار فکشن کے پڑھنے اور اس کی تنقید سے رہا ہے۔وارث علوی نے ایک مضمون لکھا تھا ’ناول بن جینا بھی کوئ جینا ہے‘یہ مضمون فکشن اور اس سے وابستہ مسائل میں ان کے جنون کو ظاہر کرتا ہے۔اسی لئے ہمارے نزدیک وارث علوی کی تحریریں ایک جینوین لکھنے والے کی تحریریں ہیں۔ کسی بھی لکھنے والے سےاتفاق اور اختلاف تو قاری کی اپنی آزادی کے ذیل میں آتا ہے۔آپ اس کتاب کو پڑھئے اور اپنی اس آزادی کے پورے حق کے ساتھ پڑھئے اور اس سوال پر بھی گفتگو کیجئے کہ یہ تحریریں فکشن تنقید کے نئے مباحث کے عام ہونے کے بعد کہاں کھڑی ہیں ۔ ہم جلد ہی وارث علوی کی اور کتابیں بھی آپ تک پہنچائیں گے۔
شناخت: ممتاز نقاد، فکشن شناس، نظریاتی ادب کے شارح اور بے باک تنقیدی اسلوب کے نمائندہ قلم کار
وارث علوی (اصل نام: سید وارث حسین علوی) 11 جون 1928ء کو احمد آباد، گجرات میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے ان ممتاز ناقدین میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی بے لاگ، جرأت مندانہ اور فکری تنقید کے ذریعے اردو ادب کو نئے زاویۂ نظر سے روشناس کیا۔ اردو، فارسی اور انگریزی تینوں زبانوں میں ایم اے کیا اور بعد ازاں سینٹ زیویئرز کالج، احمد آباد میں شعبۂ انگریزی سے وابستہ رہے، جہاں صدرِ شعبہ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
وارث علوی اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ نقاد، محقق، ڈراما نویس، مترجم اور استاد کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتے ہیں، تاہم ان کی بنیادی شناخت ایک بے باک اور غیر جانب دار نقاد کی ہے۔ ان کی تنقید حقیقت پسندی، فکری دیانت اور معروضیت پر مبنی ہے، جبکہ اسلوب میں طنز، شگفتگی اور کاٹ نمایاں طور پر موجود ہے۔ انہوں نے ادبی مصلحتوں سے گریز کرتے ہوئے ہر ادبی متن اور رجحان کا آزادانہ تجزیہ کیا۔
ان کا اصل میدان فکشن تنقید تھا، مگر انہوں نے شاعری، نظریاتی ادب، سماجی مباحث اور تنقیدی اصولیات پر بھی گہرے اور فکر انگیز مضامین تحریر کیے۔ ان کے نظریاتی مضامین خصوصاً ادب اور کمٹ منٹ، ادب اور سماج، ادب اور سیاست، ادب اور پروپیگنڈا، ادب اور آئیڈیالوجی اور فسادات اور ادب اردو تنقید میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تحریروں سے ان کے وسیع مطالعے، مغربی و مشرقی ادب پر عبور اور گہرے فکری شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔
وارث علوی نے اردو کے بڑے ناقدین اور ادیبوں پر بھی بے باکانہ اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے آل احمد سرور، کلیم الدین احمد، احسن فاروقی، شمیم حنفی، گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی جیسے اہم نقادوں کے نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا اور اردو تنقید میں سطحیت، گروہ بندی اور غیر ضروری مدح سرائی پر سخت تنقید کی۔
مولانا حالی اور مقدمۂ شعر و شاعری پر ان کی کتاب "حالی، مقدمہ اور ہم" اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حالی کی تنقیدی بصیرت کا مدلل دفاع کیا اور جدید ناقدین کے اعتراضات کا جواب دیا۔ ان کے نزدیک حالی اردو تنقید کے پہلے مکمل اور باقاعدہ نقاد تھے۔
شاعری پر ان کی تنقید بھی نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے غالب، اقبال، ندا فاضلی، محمد علوی اور دیگر شعرا کے فن پر فکر انگیز مضامین تحریر کیے۔ ان کے یہاں شعری تنقید میں فنی حسن، لسانی نزاکت اور فکری گہرائی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
ان کی اہم تصانیف میں: خندہ ہائے بیجا، کچھ بچا لایا ہوں، اوراقِ پارینہ، بورژواژی بورژواژی، ادب کا غیر اہم آدمی، لکھتے رقعہ، لکھے گئے دفتر، ناخن کا قرض، حالی، مقدمہ اور ہم، بت خانۂ چین، تیسرے درجے کا مسافر راجندر سنگھ بیدی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ گجراتی ڈراموں کا مجموعہ نرو چاندنی نوں گھووڑ بھی مقبول ہوا۔
وہ گجرات اردو اکادمی کے صدر بھی رہے اور متعدد اعزازات سے نوازے گئے۔ وارث علوی کی تنقید میں علمی گہرائی، زبان کی چمک، فکری بے باکی اور اسلوب کی انفرادیت انہیں اپنے عہد کے ممتاز ناقدین میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔
وفات: 9 جنوری 2014ء کو انتقال ہوا۔