Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شہود عالم آفاقی کی ولادت 1940ء میں دسنہ، ضلع نالندہ، بہار کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی۔ ان کا اصلی نام محمد شہود عالم ہے جب کہ دنیائے شعر و ادب میں شہود عالم آفاقی کے نام سے جانے جاتے ہیں اور دنیائے ادب میں یہی نام ان کی شناخت کا سبب ہے۔ ان کے والد کا نام عبدالشکور اور والدہ کا نام حلیمہ بی بی ہے۔ ناگفتہ بہ حالات کے سبب تعلیم درجہ نہم تک ہی حاصل کرسکے۔ بعد ازاں نوکری کی تلاش میں لگ گئے اور آخرکار کلکتہ ٹرام وے کمپنی میں ملازمت مل گئی۔

شہود عالم آفاقی کا تخلیقی سفر 1957ء سے شروع ہوا۔ انھیں ساجد القادری (ابروی) اور ابراحسنی گنوری سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کے دو شعری مجموعے منظرِ عام پر آئے۔ پہلے شعری مجموعے کا نام ”دشتِ بیکراں“ ہے اور دوسرا شعری مجموعہ ”نذرِ دیدہ وراں“ کے نام سے شائع ہوا جس کے مرتب ڈاکٹر عمر غزالی ہیں۔

شہود عالم آفاقی نے دو کتابیں مرتب کی ہیں جن میں ایک ”اخترِ ثاقب“ (وکیل اختر کی شاعری اور شخصیت) اور دوسری تصنیف کا نام ”معیارِ افکار (عنوان چشتی:حیات اور فکر و فن)“ ہے۔ شہود عالم آفاقی نے ایک ماہانہ رسالہ بنام ”شہود“ 1971ء میں جاری کیا تھا جو ان کی حیات تک جاری رہا۔ بعد از اں مغربی بنگال اردو کاڈمی کی جانب سے 2014ء میں ایک مونوگراف بنام ”شہود عالم آفاقی:حیات و خدمات“ بھی شائع ہوا جس کے مصنف ڈاکٹر عمر غزالی ہیں۔

ناقد، ادیب اور محقق ڈاکٹر عمر غزالی شہود عالم آفاقی کی شعری اور ادبی شخصیت پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے  ہیں۔

”شہود عالم آفاقی کے سر پر علامہ ابر احسنی گنوری کا  دستِ شفقت پڑنا تھا کہ شہود کی شاعری نے دھوم مچانا شروع کی اور مشاعروں میں بلائے جانے لگے۔ ایک تو کھرا لہجہ، اس پر پاٹ دار آواز اور اندازِ پیش کش نے گویا سامعین کے دلوں کو مسخر کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہندستان ان کی شاعری کا مداح بن گیا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مشاعروں کے دعوت نامے آنے لگے۔ یہاں تک کہ بیرون ملک کے مشاعروں میں بھی ان کی شرکت ہونے لگی۔ ان کی شہرت میں جیسے پر لگ گئے۔ اب شہود ،شہود نہیں تھے، آفاقی بن گئے تھے۔

انھوں نے شاعروں کے کلام پر اصلاح بھی دی۔ انھوں نے کبھی کسی شاعر کو مایوس نہیں کیا۔ اصلاحِ سخن کے لیے بیرونِ شہر سے بھی شاعروں کے کلام ان کے پاس آنے لگے۔ ان کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں مشتاق افضل، مشتاق جوہر، سرور کلکتوی، عقیل ضیائی، سمیع اللہ سحر، اشرف غازی پوری، مرتضیٰ حسین مرتضیٰ، رفیق یزدانی، اسلم اقبال، سعید آذر، عثمان غنی، مجیب اختر، عادل بارکپوری، رفعت بارکپوری، ڈاکٹر یونس آرزو، ڈاکٹر ضیا حسن، نشتر شہودی، بلند اختر شہودی، اشرف یعقوبی، مجسم ہاشی، نورتسلیمی، نواب آرزو، ناچیز کلکتوی، کلیم آذر، شعیب احمد شورش، حمزہ حنفی، منیر الاسلام اور غیاث انور شہودی وغیرہ اہم ہیں۔“

شہود عالم آفاقی 10 نومبر 2001ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔


.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے