Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: مقبول عام ناول نگار، حقیقت پسند اور نفسیات شناس ادیب

محی الدین نواب 1930ء میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی، اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوبارہ ہجرت کرتے ہوئے پاکستان آئے اور کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کی یہ دو ہجرتیں ان کے ذہن، فکر اور تخلیقی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں، جن کی جھلک ان کے ناولوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔

اگرچہ ان کی پیدائش بنگال میں ہوئی، لیکن گھریلو ماحول اردو زبان سے وابستہ تھا، جس کے باعث اردو ان کی فکری اور تخلیقی زبان بنی۔ وہ مضمون نگار، افسانہ نویس اور شاعر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔ ان کا قلم انسانی نفسیات، سماجی ناہمواریوں، سیاسی شعور، عشق و محبت، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا آئینہ دار ہے۔

محی الدین نواب کے ناول حجم کے اعتبار سے مختصر بھی ہیں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل طویل بھی، مگر دلچسپی، ربط اور فکری گہرائی ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔

محی الدین نواب کی شہرت کی اصل وجہ ان کے طویل ترین افسانوی سلسلے  "دیوتا" سے ہوئی۔ یہ ناول اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977ء سے 2010ء تک بلا ناغہ شائع ہوتا رہا اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین ناول ہے اس کے کل 56 حصے ہیں۔ یہ ناول فرہاد علی تیمور کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جس کے والدین بچپن میں مر جاتے ہیں اور جائداد پر اس کے رشتہ دار قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرہاد علی تیمور اپنی جائداد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھتا ہے۔ یہ ناول مقبول عام فکشن کا ایک منفرد باب ہے، جس کے بارے میں خود محی الدین نواب کا یہ دعویٰ مشہور ہے کہ جو شخص اس کے سو صفحات پڑھ لے، وہ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

محی الدین نواب نے سیاسی، سماجی، تاریخی اور معاشرتی تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اس قدر گہری اور جراحی انداز رکھتی ہیں کہ انھیں “جراحِ معاشرہ” بھی کہا گیا۔ کمزور طبقات پر ظلم، سماجی نابرابری، طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال ان کے ناولوں کے مستقل موضوعات ہیں۔

وفات: محی الدین نواب کا انتقال 6 فروری 2016ء بروز ہفتہ کراچی میں ہوا۔

 

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے