Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : غضنفر

ناشر : غضنفر

سن اشاعت : 2003

زبان : اردو

صفحات : 218

معاون : غضنفر

فسوں
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: فکشن نگار، شاعر، نقاد اور اردو کے ہمہ جہت ادیب

غضنفر 9 مارچ 1953ء کو چوراؤں، ضلع گوپال گنج (صوبہ بہار) کے ایک دیہی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام درودن خاتون اور والد کا نام عبد المجیب تھا۔

مسلم روایتی انداز میں ان کی تعلیم کا آغاز مدرسے سے ہوا، اس کے بعد انہوں نے قطب چھپرہ (ضلع سیوان) کے اپر پرائمری مکتب سے پانچویں، پھر سیمرا مڈل اسکول سے مڈل اور وی-ایم-ایم-ایچ-ای اسکول گوپال گنج سے ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد گوپال گنج کالج سے بی۔اے کیا۔

بہار یونیورسٹی، مظفر پور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا، تاہم بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی منتقل ہو گئے، جہاں سے 1976ء میں ایم اے اردو امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ 1982ء میں ’’شبلی نعمانی کے تنقیدی نظریات‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

پروفیسر غضنفر نے ملک کے مختلف اہم لسانی اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ وہ اے ایم یو میں عارضی لیکچرر، 'اردوئے معلیٰ' کے سینیئر سکرٹری اور 'علی گڑھ میگزین' کے اداریہ بورڈ کے ممبر رہے۔

یو پی ایس سی (UPSC) کے ذریعے ان کا تقرر 'اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر' سولن (ہماچل پردیش) میں بطور لیکچرر کم جے-آر-او ہوا، جہاں انہوں نے 11-12 سال خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ لکھنؤ سنٹر کے پرنسپل بنے۔

دورانِ ملازمت وہ اے ایم یو کے شعبۂ اردو میں 3 سال تک ریڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سندھی اکادمی بڑودرا کے ڈائریکٹر اور ریجنل لینگویجز پٹیالہ (پنجاب) کے انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

2008ء میں ان کا تقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی 'اکادمی برائے فروغِ اردو اساتذہ' میں پروفیسر اور ڈائریکٹر کے عہدے پر ہوا۔ 10 سال کی خدمات کے بعد 2018ء میں یہاں سے سبکدوش ہوئے۔ وہ 'اردو اسٹائل مینوئل' کے ایڈیٹر رہے اور جامعہ سے ایک منفرد تعلیمی رسالہ "تدریس نامہ" بھی جاری کیا۔

غضنفر کا شمار اردو کے معاصر فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ناول، افسانہ، شاعری، تنقید، خاکہ نگاری، مثنوی، ڈراما اور تدریسِ زبان و ادب سمیت مختلف اصناف میں کام کیا۔

ان کے ناولوں  میں ’’پانی‘‘، ’’کینچلی‘‘، ’’کہانی انکل‘‘، ’’دویہ بانی‘‘، ’’فسوں‘‘، ’’وش منتھن‘‘، ’’مم‘‘، ’’شوراب‘‘ اور ’’مانجھی‘‘ شامل ہیں۔ "پانی" (1989ء) کا اردو کے بہتر ناولوں میں شمار ہوتا ہے جس میں پانی کی اجارہ داری اور انسانی استعارے کو خوبصورتی سے برتا گیا ہے۔

ان کی دیگر تصانیف میں ’’حیرت فروش‘‘، ’’پارکنگ ایریا‘‘، ’’آنکھ میں لکنت‘‘، ’’سخن غنچہ‘‘، ’’سرخ رو‘‘، ’’روئے خوش رنگ‘‘، ’’فکشن سے الگ‘‘، ’’مشرقی معیارِ نقد‘‘ وغیرہ ہیں، جبکہ ’’دیکھ لی دنیا ہم نے‘‘ خودنوشت ہے۔

غضنفر کو ان کی اردو خدمات کے لیے متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے