aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
مرزا ادیب مشہور ڈراما نویس، افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ہی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی پہلی کتاب " صحرا نورد کے خطوط " بہت مشہور ہوئی۔ مقبولیت ایسی بڑھی کہ بعد میں آنے والی کتابیں ہاتھوں ہاتھ لی جانے لگیں ۔ان کے منفرد اسلوب کا اندازہ زیر نظر افسانوں کے مجموعے کے مطالعہ سے ہوتا ہے ۔ اس میں کل ۱۷ افسانے ہیں اور ہر افسانہ میں ندرت و امتیازیت کا اثر صاف طور پر جھلکتا ہے ۔ دراصل ان افسانوں کے اسلوب میں آرائش زباں کے زیور سے حسن پیدا کرنے کے بجائے جملے کی برجستگی، لطافتوں کے بہاؤ اور ان کی آہنگی پر زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ لہٰذا پڑھنے والے کو ایک عجیب سا لطف محسوس ہوتا ہے ۔ سادہ سی کہانی بھی بہت لطافت کا احساس دلاتی ہے۔ صرف لفظوں کی ذخیرہ اندوزی نہیں بلکہ ان کہانیوں میں سیاسی ، سماجی اور معاشرتی شعور کی بیداری بھی موجود ہے اورنئی نسل کے لئے ترغیب و ترہیب کا محرک بھی ۔
شناخت: ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ایڈیٹر، بچوں کے مقبول ادیب
میرزا ادیب (اصل نام: دلاور علی) 14 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعلیم لاہور ہی میں حاصل کی اور اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی ذوق کے مالک تھے اور شاعری سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جہاں 'عاصی' اور پھر 'برق' تخلص رکھا، مگر شہرت 'میرزا ادیب' کے نام سے ملی۔ انہوں نے محض 21 برس کی عمر میں 'ادبِ لطیف' جیسے معتبر جریدے کی ادارت سنبھالی اور اسے عروج تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ وہ ریڈیو پاکستان لاہور سے بھی طویل عرصہ وابستہ رہے۔
میرزا ادیب کی ادبی شناخت کی سب سے مضبوط بنیاد ان کے یک بابی ڈرامے اور افسانے ہیں۔ انہوں نے انسانی ایثار، محبت اور حسنِ سلوک کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں 'آنسو اور ستارے'، 'لہو اور قالین'، 'فصیلِ شب'، 'شیشے کی دیوار'، 'مٹی کا دیا' (خودنوشت سوانح) اور 'صحرانورد کے خطوط' شامل ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر ادب تخلیق کیا، جس میں 'نانی جان کی عینک'، 'تیس مار خاں' اور 'قوم کی بیٹی' نمایاں ہیں۔
انہوں نے کالم نگاری، تنقید اور تراجم کے میدان میں بھی کافی کام کیا۔ 'نوائے وقت' میں ان کے ادبی کالم ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
وفات: 31 جولائی 1999ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔