aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: ممتاز ناول نگار، صاحبِ اسلوب افسانہ نگار، تاریخی فکشن کے معمار اور اودھ کی تہذیب کے داستان گو
قاضی عبدالستار 9 فروری 1933ء کو اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ مچھریٹہ میں ایک معزز جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اردو ادب میں ان کی شناخت ایک منفرد اسلوب کے حامل ناول نگار، افسانہ نگار اور تاریخی فکشن کے اہم ادیب کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں تاریخ، تہذیب، جمالیات اور زبان کی لطافت کو اس فنی مہارت کے ساتھ برتا کہ ان کا شمار اردو کے اہم ترین فکشن نگاروں میں ہونے لگا۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سیتاپور میں حاصل کی۔ راجا رگھوراج دیال کالج، سیتاپور سے 1948ء میں ہائی اسکول اور 1950ء میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ بعد ازاں لکھنؤ یونیورسٹی سے 1952ء میں بی اے (آنرز) اول درجے میں اور 1954ء میں ایم اے میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ لکھنؤ کی تہذیبی، ادبی اور ثقافتی فضا نے ان کے ذہن و شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور بعد کے افسانوں اور ناولوں کو ایک مضبوط تہذیبی پس منظر فراہم کیا۔
اس کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، جہاں پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں "اردو شاعری میں قنوطیت" کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا اور 1957ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تحقیق ہی 1956ء میں شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عارضی لکچرر مقرر ہوئے۔ 1961ء میں مستقل لکچرر، 1967ء میں ریڈر اور 1980ء میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1993ء میں تدریسی خدمات سے سبکدوش ہوئے۔
ان کی ادبی زندگی کا آغاز تحقیقی و تنقیدی کام سے ہوا۔ ان کا تحقیقی مقالہ "اردو شاعری میں قنوطیت" بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا، جبکہ "جمالیات اور ہندوستانی جمالیات" ان کی ایک اور اہم علمی تصنیف ہے۔ اس سے قبل انہوں نے "گومتی کی آواز" کے عنوان سے ایک طویل انقلابی نظم بھی لکھی تھی، لیکن بعد میں انہوں نے شاعری کے بجائے نثر کو اظہار کا مستقل وسیلہ بنایا۔
قاضی عبدالستار کی پرورش ایک ایسے جاگیردارانہ ماحول میں ہوئی جہاں رعب و دبدبہ، روایتی اقدار اور تہذیبی وقار زندگی کا حصہ تھے۔ تاہم اپنے بزرگوں کے برخلاف ان کے مزاج میں نرمی، انسانی ہمدردی اور روشن خیالی پائی جاتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کے افسانوں اور ناولوں میں زمیندارانہ نظام کی شکست و ریخت، تہذیبی زوال، انسانی کرب اور ماضی کی عظمت کا احساس پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔
افسانہ نگاری میں ان کا پہلا افسانہ "اندھا" تھا، لیکن 1964ء میں شائع ہونے والے افسانے "پیتل کا گھنٹہ" نے انہیں غیر معمولی شہرت عطا کی۔ یہ افسانہ اودھ کی زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب، معاشی شکست اور انسانی وقار کے نوحے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد "ٹھاکر دوارہ"، "مالکن"، "ماڈل ٹاؤن"، "ایک دن"، "سوچ"، "مجریٰ"، "تحریک"، "آنکھیں" اور "بھولے بسرے" جیسے افسانوں نے انہیں اردو کے منفرد افسانہ نگاروں میں شامل کر دیا۔
قاضی عبدالستار کے افسانوں میں اودھ کی تہذیب، زمیندارانہ سماج، انسانی نفسیات، طبقاتی کشمکش اور تہذیبی زوال کی نہایت جاندار تصویریں ملتی ہیں۔ ان کے تاریخی افسانوں میں مغلیہ عہد، اسلامی تاریخ اور ہندوستانی ثقافت اس طرح زندہ ہو اٹھتی ہے کہ حقیقت اور تخیل کے درمیان فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ ان کے یہاں فضا بندی، منظر کشی، کردار نگاری، مکالمہ اور بیانیہ اسلوب خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
ناول نگاری کے میدان میں قاضی عبدالستار نے اسلامی اور ہندوستانی تاریخ کو موضوع بنایا اور اردو ناول کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کے مشہور ناولوں میں: "خالد بن ولید"، "صلاح الدین ایوبی"، "داراشکوہ" اور "غالب" خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ان ناولوں میں انہوں نے تاریخی ماحول، کرداروں کی نفسیات، تہذیبی فضا اور مکالموں کو اس فنی مہارت سے پیش کیا کہ قاری خود کو ان ادوار کا عینی شاہد محسوس کرنے لگتا ہے۔
قاضی عبدالستار کو اردو نثر میں "لفظیات کا جادوگر" کہا جاتا ہے۔ ان کا اسلوب شائستگی، تہذیبی وقار، شعری آہنگ، محاوراتی حسن اور نادر تشبیہوں سے عبارت ہے۔ وہ موضوع اور ماحول کے مطابق زبان کا انتخاب کرتے تھے، اسی لیے ان کے دیہی، شہری اور تاریخی افسانوں کی زبان ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتی ہے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1974ء میں پدم شری سمیت متعدد اہم اعزازات سے نوازا گیا۔
وفات: 29 اکتوبر 2018ء کو دہلی میں انتقال ہوا، بعد ازاں علی گڑھ میں سپردِ خاک کیے گئے۔