aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
قمر مرادآبادی اردو غزل کے اُن معتبر شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدید حسیت کے امتزاج سے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں محبت، انسان دوستی، تہذیبی شعور، دردِ دل، رومان اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
قمر مرادآبادی 1910ء میں مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مدارس میں حاصل کی، بعد ازاں فارسی و عربی ادب کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کے اساتذۂ سخن میں مولوی یوسف رضا اور مولوی حامد رضا جیسے اہلِ علم شامل تھے۔ ابتدا میں اصلاح کے لیے اپنا کلام مختلف شعرا کو دکھاتے رہے، بعد میں اعجاز صدیقی کے مشورے پر “قمر” تخلص اختیار کیا۔
قمر مرادآبادی کی شاعری میں کلاسیکی غزل کی لطافت کے ساتھ جدید احساسات کی آمیزش ملتی ہے۔ ان کا کلام عام قاری کے لیے بھی قابلِ فہم ہے اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے عشقیہ وارداتوں، انسانی جذبات اور سماجی رویّوں کو نہایت نرم اور شستہ لہجے میں پیش کیا۔
ان کے شعری مجموعوں میں ماتمِ ماہ، شورِ غم، کلیاتِ قمر، سازِ وفا، گلستانِ غزل، آئینہ سکندر، معراجِ ادب اور شاخِ گل وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عصری شعور بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
قمر مرادآبادی نہ صرف ایک خوش فکر شاعر تھے بلکہ مشرقی تہذیبی اقدار کے علمبردار اور نرم خو انسان بھی تھے۔ اردو غزل کی کلاسیکی روایت کو نئی معنویت عطا کرنے والے شعرا میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔