Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ممتاز مترجم، صحافی، لغت نویس اور روسی ادب کے اہم مفسر

ظ انصاری، جن کا اصل نام ظلِ حسنین نقوی تھا، 6 فروری 1925ء کو سہارنپور، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی اور علمی گھرانے سے تھا جہاں دینی تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد وہ مصبیہ کالج، میرٹھ میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے عربی اور فارسی زبانیں سیکھیں۔ اردو ادب سے انہیں ابتدا ہی سے گہری دلچسپی تھی، تاہم وہ اپنی اس تعلیم کو ناکافی سمجھتے تھے، اسی لیے بعد میں انگریزی زبان و ادب کی طرف بھی متوجہ ہوئے اور مستقل مطالعے کے ذریعے انگریزی پر غیر معمولی دسترس حاصل کرلی۔ ماسکو میں قیام کے دوران روسی زبان سیکھی اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیمی اور معاشی حالات کے باعث انہیں عملی زندگی میں جلد قدم رکھنا پڑا اور انہوں نے صحافت سے وابستگی اختیار کرلی۔ دہلی آنے کے بعد روزنامہ ’’انصاری نامہ‘‘ سے وابستہ ہوئے۔ اسی زمانے میں ترقی پسند تحریک اور مارکسزم کا بڑا زور تھا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار اخبار ’’قومی جنگ‘‘ کے ادارتی حلقے میں شامل ہوئے، جس کے مدیر سید سبط حسن تھے۔ 1946ء میں سبط حسن کے امریکہ جانے کے بعد ظ انصاری مجلسِ ادارت کا حصہ بن گئے۔ آزادی کی تحریک، ترقی پسند ادب اور سیاسی ہنگامہ آرائیوں کے اس دور میں وہ بھی گرفتار ہوئے، تاہم بعد میں حکومت سے مصالحت کے بعد رہائی حاصل کی، جس پر ان کی جماعت نے ناراضی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے خود کو پوری طرح صحافت اور ادب کے لیے وقف کردیا۔

ظ انصاری نے روزنامہ ’’انقلاب‘‘ بمبئی سے بھی وابستگی اختیار کی اور میرا جی، اختر الایمان اور مدھو سودن کے ساتھ مل کر ’’خیال‘‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ جاری کیا۔ وہ مزاحیہ کالم نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے اور ان کے کالم خاصے مقبول تھے۔ بعد ازاں وہ ’’شاہراہ‘‘ اور پھر یوسف دہلوی کے ہفتہ وار رسالے ’’آئینہ‘‘ کی ادارت سے وابستہ ہوئے۔

ظ انصاری کی علمی زندگی کا ایک اہم باب ماسکو میں گزرا، جہاں انہیں دارالترجمہ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے روسی زبان سیکھی اور اس پر ایسی مہارت حاصل کی کہ روسی ادب کے بڑے ناموں کو اردو سے روشناس کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے دستووسکی، چیخوف اور پشکن جیسے عظیم روسی ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم کیے، جدید روسی شاعری کو منظوم اردو قالب میں ڈھالا اور اردو روسی لغت مرتب کی۔ کارل مارکس اور اینگلز کی منتخب تصانیف کے اردو تراجم بھی ان کی اہم خدمات میں شامل ہیں۔ ماسکو میں ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی۔

ظ انصاری نے اردو ادب اور کلاسیکی شعری روایت پر بھی گراں قدر کام کیا۔ انہوں نے غالب کی فارسی مثنویوں کا منظوم اردو ترجمہ کیا، امیر خسرو کی مثنویاں مرتب کیں اور غالب و خسرو پر روسی زبان میں مجموعے مرتب کیے۔ ان کی تصانیف میں ’’مثنوی کا سفرنامہ‘‘، ’’کانٹوں کی زبان‘‘، ’’کہی ان کہی‘‘، ’’کتاب شناسی‘‘، ’’اقبال کی تلاش‘‘، ’’غالب شناسی‘‘، ’’کمیونزم اور مذہب‘‘، ’’ورق ورق‘‘ اور ’’زبان و بیان‘‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔

وفات: ظ انصاری کا انتقال 31 جنوری 1991ء کو بمبئی میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے