مصنف : کنہیا لال کپور

ناشر : نیشنل اکاڈمی، دہلی

زبان : Urdu

موضوعات : طنز و مزاح, مضامين و خاكه

ذیلی زمرہ جات : نثر, مضامین

صفحات : 153

معاون : ریختہ

سنگ و خشت

کتاب: تعارف

زیر نظر کتاب "سنگ و خشت" کنہیا کپور کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے شامل زیادہ تر مضامین کا مواد شعرا و ادبا کی زندگی سے لیا گیا ہے۔ اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ برگزیدہ لوگ بھی مضحکہ خیز پہلو رکھتے ہیں۔ مگر انداز ایسا کہ جس سے اصلاح و تلقین مقصود ہو۔ کنھیا لال کپور ایک اچھے مزاح نگار ہیں ان کی تحریروں میں سماج کی نا ہموار یوں پر شدید طنز ملتا ہے۔ وہ نہایت ہی سادہ اور آسان نثر لکھتے ہیں تاہم لفظوں کے درمیان طنز کی کاری لہریں رواں ملتی ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

کنہیا لال کپور ہمارے عہد کے بہت کامیاب طنزنگار و ظرافت نگار ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر بسیارنویسی کے باوجود ان کی تحریریں معیار سے گرنے نہیں پاتیں۔ سبب یہ کہ وہ پختہ فنی شعور کے مالک ہیں اور جانتے ہیں کہ اعلیٰ درجے کا ادب کس طرح وجود میں آتا ہے۔

کنھیا لال کپور1910ء میں لائل پور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ لائل پور پنجاب کا ایک ضلع ہے اور اب پاکستان میں شامل ہے۔ یہیں ایک پرائمری اسکول میں تعلیم پائی۔ موگا سے انٹرمیجیٹ اور لاہور سے بی۔ اے۔ ایم اے کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مختلف کالجوں میں لکچرار اور پرنسپل رہے۔ تقسیم ملک کے بعد فیروزپور اور موگا میں ملازمت کی۔ وہیں قیام رہا۔ 1980ء میں انتقال ہوا۔

ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ انگریزی ادب کے طنزیہ اور مزاحیہ ادب سے انہیں شناسائی حاصل ہے۔ اس لیے وہ ان تمام تدابیر سے بخوبی واقف ہیں جن سے طنزوظرافت میں حسن اور اثر پیدا ہوتا ہے۔ ان کا دائرہ کار بھی بہت وسیع ہے۔ فطرت انسانی سے بھی وہ بخوبی واقف ہیں اس لیے انسان کی عالمگیر کمزوریوں کی بڑی کامیابی کے ساتھ گرفت کرتے ہیں اور ان کی تخلیقات زمان و مکاں یعنی وقت اور مقام سے اوپر اٹھ جاتی ہیں۔ ہر زمانے اور ہر مقام کے لوگ ان کی تصانیف سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ فلسفۂ قناعت کامریڈ شیخ چلی اور انکم ٹیکس والے اسی طرح کے مضامین ہیں۔

کنھیا لال کپور کے طنزمیں تیزی بھی ہے اور نفاست بھی۔ ان کا طنزیہ تیزدھار والے نشتر کی طرح بڑی صفائی سے عمل جراحی کرتا ہے۔ ان کا موضوع ادب ہے۔ اس لیے وہ عموماً ادبی موضوعات کو طنزوظرافت کا نشانہ بناتے ہیں۔ مثلاً چینی شاعری‘‘ اور ’’غالب جدید شعرا کی مجلس میں‘‘ معیاری مضامین ہیں۔ ان کے مضامین میں ادبیت نظر آتی ہے۔ زبان پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ اس لیے صاف ستھری زبان لکھتے ہیں۔ تصنیف کے ابتدائی دور میں ان کی زبان زیادہ نکھری ہوئی نہیں تھی مگر رفتہ رفتہ زبان پر گرفت مضبوط ہوتی گئی۔ آخری دور کے مضامین میں سادگی اور روانی زیادہ ہے۔ ان کا ذوق مزاح بہت شستہ ہے۔ وہ محض لفظی الٹ پھیر یا ناہموار زبان و بیان سے ظرافت پیدا نہیں کرتے بلکہ خیال و کردار کے وسیلے سے اسے ابھارتے ہیں۔

سنگ و خشت، شیشہ و تیشہ، چنگ و رباب، نوک نشتر، بال و پر، نرم گرم اور کامریڈ شیخ چلی ان کے مشہور مجموعے ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے