Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: اردو کے مقبول ترین فکشن نگار، سنسنی خیز و مافوق الفطرت ناول نگاری کے لئے مشہور

مرغوب علی راحت، جو ادبی دنیا میں ایم اے راحت کے نام سے مشہور ہیں، 1941ء میں کانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حبیب علی راغب تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ اور دہلی میں حاصل کی۔ 1955ء میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئے، جہاں بعد ازاں جامعہ کراچی سے ایم اے اردو کیا۔

ادبی سفر کا آغاز 1960ء کی دہائی میں ہوا۔ کراچی میں دو سال نجی ملازمت کے بعد انہوں نے مشہور زمانہ عمران سیریز اور ابنِ صفی کی تخلیق کردہ جاسوسی دنیا ' فریدی حمید سیریز ' سے لکھنا شروع کیا۔ ابتدا میں ایک ناشر نے ان کی تحریر شائع کرنے سے انکار کیا، مگر دوسرے ناشر نے اسے قبول کر کے شائع کیا اور یوں ان کی غیر معمولی مقبولیت کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ان کی کامیابی کے نتیجے میں عمران ڈائجسٹ اور متعدد سسپنس و جاسوسی ڈائجسٹ وجود میں آئے۔

ایم اے راحت نے کرائم، جاسوسی، معاشرتی، رومانوی، تاریخی، سائنسی تخیل اور ماورائے عقل موضوعات پر درجنوں ناول تحریر کیے۔ ان کا شمار ابنِ صفی، اے حمید اور محی الدین نواب کے بعد اردو کے مقبول ترین کمرشل فکشن نگاروں میں ہوتا ہے، بلکہ بہت سے ناقدین انہیں اس روایت کی آخری بڑی کڑی قرار دیتے ہیں۔

ان کی سب سے نمایاں شناخت ان کے ماورائے عقل اور پراسرار ناول تھے، جن میں انہوں نے جنات، جادو، آسیب، پراسرار مخلوقات اور غیر مرئی دنیا کو اس مہارت سے پیش کیا کہ یہ اسلوب ان کا امتیاز بن گیا۔ ان کے معروف ناولوں میں صدیوں کا بیٹا، کالکا دیوی، جن زادہ، صندل کا تابوت، بلڈی مریم، کالا جادو، جناتی دنیا، نمرود کا شہر اور متعدد دیگر شامل ہیں۔

ناول نگاری کے علاوہ انہوں نے ٹیلی وژن کے لیے بھی لکھا۔ 1994ء میں کاظم پاشا کی فرمائش پر انہوں نے مشہور ڈرامہ سیریل اعتراف تحریر کیا، جب کہ کیپٹن پرمود بھی ان کی مقبول ڈرامائی تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔

ایم اے راحت مختلف اخبارات و رسائل سے طویل عرصے تک وابستہ رہے اور زندگی کے آخری دور میں فیملی میگزین نوائے وقت کے لیے بھی مسلسل لکھتے رہے، جہاں ان کا ناول "جھرنے" اشاعت پذیر تھا۔

وفات: 24 اپریل 2017ء، لاہور

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے