aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: مفسرِ قرآن، محدث، صوفی بزرگ اور دینی و اصلاحی ادب کے ممتاز مصنف
محمد عاشق الٰہی بلندشہری مہاجر مدنی 1924ء/1925ء (1343ھ) میں بلندشہر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد انہوں نے مظاہر علوم میں تعلیم حاصل کی اور 1363ھ میں فراغت پائی۔ وہ اپنے عہد کے نامور محدث محمد زکریا کاندھلوی کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ سلوک و تصوف میں انہیں محمد طلحہ کاندھلوی سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔
فراغت کے بعد انہوں نے ہندوستان کے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں مفتی محمد شفیع کی دعوت پر 1384ھ میں پاکستان منتقل ہوگئے اور دارالعلوم کراچی میں تقریباً بارہ برس تک تفسیرِ قرآن اور حدیث کی تدریس کی۔ 1396ھ (1976ء) میں مدینہ منورہ منتقل ہوگئے، جہاں بقیہ زندگی علمی، تدریسی اور تصنیفی خدمات میں گزاری۔
مولانا عاشق الٰہی کا شمار برصغیر کے ممتاز علما اور اصلاحی مصنفین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، اخلاق، تصوف اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تحریروں میں سادگی، دل نشینی اور اصلاحی رنگ نمایاں ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں "تحفۂ خواتین"، "مرنے کے بعد کیا ہوگا؟"، "اسلامی آداب"، "حقوق الوالدین"، "انوار البیان" (پانچ جلدوں پر مشتمل اردو تفسیرِ قرآن)، "زاد الطالبین"، "الفوائد السنیۃ فی شرح الاربعین النوویہ" اور "التسہیل الضروری فی مسائل القدوری" شامل ہیں۔
وفات: مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی کا انتقال 1422ھ / 2002ء میں مدینہ منورہ میں ہوا۔