میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں تم چپکے سے آ جاتے ہو

ساحر لدھیانوی

میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں تم چپکے سے آ جاتے ہو

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں تم چپکے سے آ جاتے ہو

    اور جھانک کے میری آنکھوں میں بیتے دن یاد دلاتے ہو

    مستانہ ہوا کے جھونکوں سے ہر بار وہ پردے کا ہلنا

    پردے کو پکڑنے کی دھن میں دو اجنبی ہاتھوں کا ملنا

    آنکھوں میں دھواں سا چھا جانا سانسوں میں ستارے سے کھلنا

    رستے میں تمہارا مڑ مڑ کر تکنا وہ مجھے جاتے جاتے

    اور میرا ٹھٹھک کر رک جانا چلمن کے قریب آتے آتے

    نظروں کا ترس کر رہ جانا اک اور جھلک پاتے پاتے

    بالوں کو سکھانے کی خاطر کوٹھے پہ وہ میرا آ جانا

    اور تم کو مقابل پاتے ہی کچھ شرمانا کچھ بل کھانا

    ہم سایوں کے ڈر سے کترانا گھر والوں کے ڈر سے گھبرانا

    رو رو کے تمہیں خط لکھتی ہوں اور خود پڑھ کر رو لیتی ہوں

    حالات کے تپتے طوفاں میں جذبات کی کشتی کھیتی ہوں

    کیسے ہو کہاں ہو کچھ تو کہو میں تم کو صدائیں دیتی ہوں

    میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں تم چپکے سے آ جاتے ہو

    اور جھانک کے میری آنکھوں میں بیتے دن یاد دلاتے ہو

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Sahir Ludhianvi (Pg. 389)
    • Author : SAHIR LUDHIANVI
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY