ذرے ذرے ہیں عکس کے ہر سو

سیما شرما میرٹھی

ذرے ذرے ہیں عکس کے ہر سو

سیما شرما میرٹھی

MORE BYسیما شرما میرٹھی

    ذرے ذرے ہیں عکس کے ہر سو

    ریزہ ریزہ ہیں آئینے ہر سو

    یاد کی برق ہو گئی رقصاں

    اور آنسو برس پڑے ہر سو

    جب سے پانی مرا ہے آنکھوں کا

    شہر کے شہر جل گئے ہر سو

    خوشبوئیں گم ہوئی کہاں جانے

    کاغذی پھول ہی ملے ہر سو

    ڈھلتے سورج نے رات بوئی تھی

    گل ستاروں کے کھل گئے ہر سو

    شب کا گھونگھٹ اٹھایا سورج نے

    ذرے ذرے چمک اٹھے ہر سو

    خوبصورت غزل بنی دلہن

    میزبانی میں لفظ تھے ہرسو

    کوئی گاہک نظر نہیں آتا

    اور بازار کھل گئے ہر سو

    سوکھتے پیڑ سے گرے پتے

    پھر پرندے بھی اڑ گئے ہر سو

    بندشیں توڑ دی ہیں دریا نے

    اور زمیں پر ہیں زلزلے ہر سو

    بن نہ پاے کمہار سے کچھ ہم

    چاک پر گھومتے رہے ہر سو

    تلوے میں تل سبب سفر کا ہے

    گرد اس تل کے آبلہ ہر سو

    تیری یادیں سراب صحرا کے

    تو ہی سیماؔ کو اب دکھے ہر سو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY