آپ میری طبیعت سے واقف نہیں مجھ کو بے جا تکلف کی عادت نہیں

اقبال عظیم

آپ میری طبیعت سے واقف نہیں مجھ کو بے جا تکلف کی عادت نہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    آپ میری طبیعت سے واقف نہیں مجھ کو بے جا تکلف کی عادت نہیں

    مجھ کو پرسش کی پہلے بھی خواہش نہ تھی اور پرسش کی اب بھی ضرورت نہیں

    یوں سر راہ بھی پرسش حال کی اس زمانے میں فرصت کسی کو کہاں

    آپ سے یہ ملاقات رسمی سہی اتنی زحمت بھی کچھ کم عنایت نہیں

    آپ اس درجہ افسردہ خاطر ہوں آپ کوئی اثر اپنے دل پر نہ لیں

    میں نے جو کچھ کہا اک فسانہ کہا اور فسانے کی کوئی حقیقت نہیں

    ایسی محفل میں شرکت سے کیا فائدہ ایسے لوگوں سے کوئی توقع بھی کیا

    جو کہا جائے خاموش سنتے رہو لب کشائی کی قطعاً اجازت نہیں

    نکتہ چینی تو فطرت ہے انسان کی کس کا شکوہ کریں کس کو الزام دیں

    خود ہمیں کون سے پارساؤں میں ہیں ہم کو دنیا سے کوئی شکایت نہیں

    مجھ کو معلوم ہے آپ مجبور ہیں آپ میرے لیے مفت رسوا نہ ہوں

    ایسے حالات میں بے رخی ٹھیک ہے مجھ کو اس بات پر کوئی حیرت نہیں

    کچھ یہ اقبالؔ ہی پر نہیں منحصر سرگرانی مسلط ہے ماحول پر

    عقل و دانش کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے سر اٹھانے کی دنیا کو فرصت نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY