زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

اقبال عظیم

زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

    اب تو جی ڈرتا ہے خود اپنے ہی میخانے میں

    سارا ماضی مری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے

    میں نے کچھ شہر بسا رکھا ہیں ویرانے میں

    بے سبب کیسے بدل سکتا ہے رندوں کا مزاج

    کچھ غلط لوگ چلے آئے ہیں میخانے میں

    جام جم سے نگہ توبہ شکن تک ساقی

    پوری روداد ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے میں

    پیاس کانٹوں کو بجھاتا ہے لہو سے اپنے

    کتنی بالغ نظری ہے مری دیوانے میں

    مجھ پہ تنقید بھی ہوتی ہے تو القاب کے ساتھ

    کم سے کم اتنا سلیقہ تو ہے بیگانے میں

    اس کو کیا کہتے ہیں اقبالؔ کسی سے پوچھو

    دل نہ اب شہر میں لگتا ہے نہ ویرانے میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY