آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے

عادل منصوری

آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے

عادل منصوری

MORE BY عادل منصوری

    آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے

    آوازے کسے جاتے ہیں بونوں کی طرف سے

    حیرت سے سبھی خاک زدہ دیکھ رہے ہیں

    ہر روز زمیں گھٹتی ہے کونوں کی طرف سے

    آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں اس در بدری میں

    کچھ ٹوٹے ہوئے خواب کھلونوں کی طرف سے

    پھر کوئی عصا دے کہ وہ پھنکارتے نکلے

    پھر اژدہے فرعون کے ٹونوں کی طرف سے

    تو وہم و گماں سے بھی پرے دیتا ہے سب کو

    ہو جاتا ہے پل بھر میں نہ ہونوں کی طرف سے

    باتوں کا کوئی سلسلہ جاری ہو کسی طور

    خاموشی ہی خاموشی ہے دونوں کی طرف سے

    پھر بعد میں دروازہ دکھا دیتے ہیں عادلؔ

    پہلے وہ اٹھاتے ہیں بچھونوں کی طرف سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY