آدمی خوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

افضل خان

آدمی خوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

افضل خان

MORE BYافضل خان

    آدمی خوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    عشق آزار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    یہ جو کچھ لوگ خیالوں میں رہا کرتے ہیں

    ان کا گھر بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    زندگی سہل پسندی میں بسر کر لینا

    کار دشوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    کار دنیا ہی کچھ ایسا ہے کہ دل سے ترا درد

    سلسلہ وار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    شادی و مرگ نے یہ نکتہ بتایا ہے کہ وقت

    تیز رفتار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    افضلؔ اور قیس نے قانون بنایا ہے کہ عشق

    دوسری بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY