آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے

    منہ کھول دو نقاب کیا ہے

    سینے میں ٹھہرتا ہی نہیں دل

    یارب اسے اضطراب کیا ہے

    کل تیغ نکال مجھ سے بولا

    تو دیکھ تو اس کی آب کیا ہے

    معلوم نہیں کہ اپنا دیواں

    ہے مرثیہ یا کتاب کیا ہے

    جو مر گئے مارے لطف ہی کے

    پھر ان پہ میاں عتاب کیا ہے

    اوروں سے تو ہے یہ بے حجابی

    مجھ سے ہی تجھے حجاب کیا ہے

    اے مصحفیؔ اٹھ یہ دھوپ آئی

    اتنا بھی دوانے خواب کیا ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(awwal) (Pg. 436)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY