آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا

رند لکھنوی

آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا

رند لکھنوی

MORE BY رند لکھنوی

    آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا

    گھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھا

    او جان حزیں جانا ہے اک دن تجھے آخر

    اب جائے تو بہتر ہے کہ کل جائے تو اچھا

    جھکوا دیا سر ضعف نے قاتل کے قدم پر

    تلوار اگر اس کی اگل جائے تو اچھا

    بہتر نہیں ہے صورت جاناں کا تصور

    دل اور کسی شے سے بہل جائے تو اچھا

    اک سل ہے کلیجے پہ نہیں روح بدن میں

    چھاتی کا پہاڑ آہ پہ ٹل جائے تو اچھا

    دیوانہ عبث شہر کی گلیوں میں ہے برباد

    مجنوں کسی جنگل کو نکل جائے تو اچھا

    او آتش دل پھونک دے تن اشک بہا دے

    بہہ جائے تو بہتر ہے یہ جل جائے تو اچھا

    ہر مرتبہ ڈسنے کے ارادہ میں ہے وہ زلف

    اژدر یہ اگر مجھ کو نگل جائے تو اچھا

    پھر رکنا ہے دشوار یہ جب آئی تو آئی

    ایسے میں طبیعت جو سنبھل جائے تو اچھا

    تابوت مرا تھم کے اٹھاؤ مرے یارو

    وہ بھی کف افسوس جو مل جائے تو اچھا

    اے رندؔ ملو یار سے یا ہاتھ اٹھاؤ

    جھگڑا چکے ہر شب کا خلل جائے تو اچھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY