آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

کرشن بہاری نور

آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

کرشن بہاری نور

MORE BY کرشن بہاری نور

    آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

    اور پھر ماننا پڑتا ہے خدا ہے مجھ میں

    اب تو لے دے کے وہی شخص بچا ہے مجھ میں

    مجھ کو مجھ سے جو جدا کر کے چھپا ہے مجھ میں

    جتنے موسم ہیں سبھی جیسے کہیں مل جائیں

    ان دنوں کیسے بتاؤں جو فضا ہے مجھ میں

    آئنہ یہ تو بتاتا ہے میں کیا ہوں لیکن

    آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں

    اب تو بس جان ہی دینے کی ہے باری اے نورؔ

    میں کہاں تک کروں ثابت کہ وفا ہے مجھ میں

    مآخذ:

    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 398)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2013-14)
    • اشاعت : 2013-14

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY