آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

ساقی فاروقی

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

ساقی فاروقی

MORE BYساقی فاروقی

    آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

    روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو

    ایک شعلہ میری آواز میں لہراتا ہے

    خون میں لہر خیالوں میں للک پیدا ہو

    قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں

    تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو

    اس طرح اپنی ہی سچائی پر اصرار نہ کر

    یہ نہ ہو اور تری بات میں شک پیدا ہو

    مجھ سے بہتے ہوئے آنسو نہیں لکھے جاتے

    کاش اک دن میرے لفظوں میں لچک پیدا ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY