آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

محمد علوی

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

    چاند کی سیر کرتا ہوا میں ہی تھا

    سر اٹھائے کھڑا تھا پہاڑوں پہ میں

    پتی پتی بکھرتا ہوا میں ہی تھا

    میں ہی تھا اس طرف زخم کھایا ہوا

    اس طرف وار کرتا ہوا میں ہی تھا

    جاگ اٹھا تھا صبح موت کی نیند سے

    رات آئی تو مرتا ہوا میں ہی تھا

    میں ہی تھا منزلوں پہ پڑا ہانپتا

    راستوں میں ٹھہرتا ہوا میں ہی تھا

    مجھ سے پوچھے کوئی ڈوبنے کا مزا

    پانیوں میں اترتا ہوا میں ہی تھا

    میں ہی تھا علویؔ کمرے میں سویا ہوا

    اور گلی سے گزرتا ہوا میں ہی تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY