آگہی آئنے تلک ہے کیا

راحت حسن

آگہی آئنے تلک ہے کیا

راحت حسن

MORE BY راحت حسن

    آگہی آئنے تلک ہے کیا

    خود کے ہونے میں کوئی شک ہے کیا

    قریہ قریہ بھٹک رہے ہیں لوگ

    سب کو اندھا کیے چمک ہے کیا

    منہ پہ آتی ہیں ان کہی باتیں

    دل میں باقی ابھی کسک ہے کیا

    اندر اندر سے ہل رہا ہوں میں

    ہوتی محسوس کچھ دھمک ہے کیا

    تم جو آنکھوں کو بند رکھتے ہو

    دیکھ لی اس کی اک جھلک ہے کیا

    کیوں نگاہوں میں ہیں مری سب رنگ

    میرے پیش نظر دھنک ہے کیا

    ہے اڑانوں کا سلسلہ ہر سو

    اب زمیں کی طرح فلک ہے کیا

    کوئی منظر بھی اب نہیں بھاتا

    مستقل آنکھ میں کھٹک ہے کیا

    ان کو آتی ہے کیوں حیا راحتؔ

    پیرہن صرف جسم تک ہے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY