آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات

عطا الرحمن جمیل

آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات

عطا الرحمن جمیل

MORE BY عطا الرحمن جمیل

    آج بھی جس کی خوشبو سے ہے متوالی متوالی رات

    وہ ترے جلتے پہلو میں تھی جان نکالنے والی رات

    صبح سے تنہا تنہا پھرنا پھر آئے گی سوالی رات

    اور ترے پاس دھرا ہی کیا ہے اے مری خالی خالی رات

    دل پر برف کی سل رکھ دینا ناگن بن کر ڈس لینا

    اپنے لیے دونوں ہی برابر کالی ہو کہ اجالی رات

    پیلے پتے سوکھی شاخوں پر بھی تو اکثر چمکا چاند

    مجھ سے ملنے کبھی نہ آئی تیری ناز کی پالی رات

    دیکھ لیے آنکھوں نے میری تازہ شبنم باسی پھول

    گرچہ صبح کو میری خاطر تم نے مجھ سے چھپا لی رات

    تم اس کو سونا کہتے ہو تم کیا ہم بھی کہتے ہیں

    اپنی تھکی پلکوں پر ہم نے لمحہ بھر جو سنبھالی رات

    آنے والی آ نہیں چکتی جانے والی جا بھی چکی

    ویسے تو ہر جانے والی رات تھی آنے والی رات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY