آج دل بے قرار ہے میرا

ولی عزلت

آج دل بے قرار ہے میرا

ولی عزلت

MORE BYولی عزلت

    آج دل بے قرار ہے میرا

    کس کے پہلو میں یار ہے میرا

    کیوں نہ عشاق پر ہوؤں منصور

    جوں سپند آہ دار ہے میرا

    بے قرار اس کا ہوں گا حشر میں بھی

    یہی اس سے قرار ہے میرا

    رنگ زرد اور سرشک سرخ تو دیکھ

    کیا خزاں میں بہار ہے میرا

    میرے قاتل کے کف حنائی نہیں

    مشت خوں یادگار ہے میرا

    کھول کر قبر دیکھ مشق جنوں

    کہ کفن تار تار ہے میرا

    آتے جاتے مگر تو ٹھکراوے

    تیرے در پر مزار ہے میرا

    آنکھ موندے ہے میری خاک سے بھی

    یاں تک اس کو غبار ہے میرا

    جیتے رہو کیوں ہوئے رقیب کے ہار

    یہی سینے میں خار ہے میرا

    تیرے کوچے کے سگ کی پا بوسی

    باعث افتخار ہے میرا

    بندۂ یار عزلتؔ مرحوم

    نقش لوح مزار ہے میرا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    آج دل بے قرار ہے میرا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY