آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا

حمایت علی شاعر

آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا

حمایت علی شاعر

MORE BYحمایت علی شاعر

    آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا

    کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا

    قزاقوں کے دشت میں جب تک قافلہ ٹھہرے

    قافلے والو رات ہو یا دن جاگتے رہنا

    تاریکی میں لپٹی ہوئی پر ہول خموشی

    اس عالم میں کیا نہیں ممکن جاگتے رہنا

    آہٹ آہٹ پر جانے کیوں دل دھڑکے ہے

    کوئی نہیں اطراف میں لیکن جاگتے رہنا

    ٹھنڈی ہواؤں کا اے دل احساں نہ اٹھانا

    کوئی یہاں ہمدرد نہ محسن جاگتے رہنا

    راہنما سب دوست ہیں لیکن اے ہم سفرو

    دوست کا کیا ظاہر کیا باطن جاگتے رہنا

    تاروں کی آنکھیں بھی بوجھل بوجھل سی ہیں

    کوئی نہیں اب شاعرؔ تجھ بن جاگتے رہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے