آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا

جون ایلیا

آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا

    تذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیا

    کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی

    تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

    جانے تری نہیں کے ساتھ کتنے ہی جبر تھے کہ تھے

    میں نے ترے لحاظ میں تیرا کہا نہیں کیا

    مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہے

    یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا

    تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً

    میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

    ہاں وہ نگاہ ناز بھی اب نہیں ماجرا طلب

    ہم نے بھی اب کی فصل میں شور بپا نہیں کیا

    مآخذ:

    • Book : shaayed (Pg. 222)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY