آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے

فرحت ایم حسنی

آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے

فرحت ایم حسنی

MORE BYفرحت ایم حسنی

    آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے

    پاؤں کی ٹھوکر پہ اپنی گردش ایام ہے

    باغ میں تتلی ہے گل ہے حسن لالہ فام ہے

    چاندنی ہے رقص میں رنگینیوں کی شام ہے

    بے حسی کہئے اسے یا خوگر غم جانیے

    اپنی ناکامی پہ بھی خوش یہ دل ناکام ہے

    ہم کو ان سے ہے توقع وہ سراپا ہیں گریز

    ہیں وفا نا آشنا ہم پر یہی الزام ہے

    کون رخصت ہو گیا دیوی غزل کی رو رہی

    شہر میں شعر و سخن کے اک مچا کہرام ہے

    اک ذرا سا دل ہے اور دنیا جہاں کی آفتیں

    سینکڑوں غم کے چراغوں سے سجا یہ بام ہے

    میری فرحتؔ شاعری اس بے سخن کی دین ہے

    شاعری کیا زندگانی بھی اسی کے نام ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY