آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھی

آل احمد سرور

آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھی

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھی

    مے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھی

    ایک ہم قدروں کی پامالی سے رہتے تھے ملول

    شکر ہے یاروں کو ایسی کوئی بیماری نہ تھی

    ذہن کی پرواز ہو یا شوق کی رامش گری

    کوئی آزادی نہ تھی جس میں گرفتاری نہ تھی

    جوش تھا ہنگامہ تھا محفل میں تیری کیا نہ تھا

    اک فقط آداب محفل کی نگہ داری نہ تھی

    ان کی محفل میں نظر آئے سبھی شعلہ بکف

    اپنے دامن میں مگر کوئی بھی چنگاری نہ تھی

    کل اسی بستی میں کچھ اہل وفا ہوتے تو تھے

    اس قدر اہل ہوس کی گرم بازاری نہ تھی

    حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں

    اور تو سب کچھ تھا لیکن رسم دل داری نہ تھی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY