آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

والی آسی

آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

والی آسی

MORE BYوالی آسی

    آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

    آج سے طے ہے کہ دشمن کو دعا دینا ہے

    آ مرے یار پھر اک بار گلے سے لگ جا

    پھر کبھی دیکھیں گے کیا لینا ہے کیا دینا ہے

    آج تک ہم نے بہت ظلم کیے ہیں خود پر

    عہد کرتے ہیں کہ اب خود کو سزا دینا ہے

    جسم پر جان کا جو قرض چلا آتا ہے

    اب کے فصل آئی تو وہ قرض چکا دینا ہے

    اب اندھیرے تو بہت سر پہ چڑھے آتے ہیں

    اب چراغوں میں لہو اپنا جلا دینا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 311)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY