آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

آزاد گلاٹی

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

    تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا

    زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا

    مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا

    دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے

    پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا

    تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک اجنبی

    ایسے لگتا ہے یہ منظر ہے مرا دیکھا ہوا

    ریزہ ریزہ ہو گیا میں تو نے جب آواز دی

    تیری خاموشی سے تھا میں اس قدر ٹوٹا ہوا

    کتنی یادیں آنسوؤں میں تھرتھرا کر رہ گئیں

    اس نے جب پوچھا کہو آزادؔ تم کو کیا ہوا

    مآخذ
    • کتاب : 1971 ki Muntakhab Shayri (Pg. 95)
    • Author : Kumar Pashi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : P.K. Publishers, New Delhi (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY