عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھی

لیاقت علی عاصم

عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھی

لیاقت علی عاصم

MORE BY لیاقت علی عاصم

    عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھی

    اس نے مجھ سے ہاتھ چھڑایا جان چھڑائی میں نے بھی

    جنگل کے جل جانے کا افسوس ہے لیکن کیا کرنا

    اس نے میرے پر گرائے آگ لگائی میں نے بھی

    اس نے اپنے بکھرے گھر کو پھر سے سمیٹا ٹھیک کیا

    اپنے بام و در پہ بیٹھی گرد اڑائی میں نے بھی

    نوحہ گران یار میں یاروں میرا نام بھی لکھ دینا

    اس کے ساتھ بہت دن کی ہے نغمہ سرائی میں نے بھی

    ایک دیا تو مرقد پر بھی جلتا ہے عاصمؔ آخر

    دنیا آس پہ قائم تھی سو آس لگائی میں نے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites